گفتگو اور اظہار خیال
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۳
مرحلہ میں اس کو ختم نہیں کیا تو آپ اُس کو بعد کے مرحلہ میں ختم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مگر بعد کو ختم کرنا صرف زیادہ نقصان کی قیمت پر ہوگا اور آپ پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آئے گا: آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار ۶۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جب کسی آدمی کو ذہنی ٹینشن (mental tension) ہو جائے تو وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے ذہنی ٹینشن کو ختم کرے تا کہ اُس کو سکون حاصل ہو جائے۔ مگر یہ ایک ناقابل عمل تدبیر ہے۔ ذہنی ٹینشن کے ساتھ ہمیں جینا ہے، نہ کہ اُس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
ذہنی ٹینشن جب کسی کو ہوتا ہے تو وہ کسی کو اُس کا ذمہ دار سمجھ کر اُس کا شاکی بن جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ذہنی ٹینشن کسی انسانی سبب سے نہیں آتی۔ وہ براہ راست فطرت کے نظام کا نتیجہ ہے۔ ہم فطرت کے نظام کو بدل نہیں سکتے۔ اس لیے ہم ٹینشن کا خاتمہ بھی نہیں کر سکتے۔ اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو ٹینشن اپنے آپ ڈیفیوز ہو جائے گا۔
۷۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ اپنے محبوب رہنما کے اقدام کو اُس کے ان بولے ہوئے الفاظ سے جانچتے ہیں جو اس نے اپنے اقدام سے پہلے لکھا تھا یا بولا تھا۔ مگر جانچ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ عملی اقدام کو اس کے عملی انجام کی روشنی میں جانچنا چاہئے، نہ کہ رہنما کے قبل از اقدام قول کی روشنی میں۔
دنیا میں کسی اقدام کا نتیجہ اقدام کرنے والے کی خواہش کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ قانون فطرت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ رہنما وہ ہے جو اس حقیقت کو جانے اور اقدام سے پہلے موجودہ حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھ کر یہ اندازہ کرے کہ اُس کا اقدام نتیجہ خیز ہوگا یا نہیں۔ جو آدمی واقعی حالات کا اندازہ کیے بغیر محض اپنی خواہش کے زیر اثر عملی اقدام کرے وہ رہنما نہیں ہے بلکہ صرف ایک نادان انسان ہے۔ ایسے آدمی کا اقدام بندر کی چھلانگ ہے، نہ کہ دانا انسان کا منصوبہ بند عمل۔ فلسطین کا جہاد، کشمیر کا جہاد، پاکستان بنانے کا ہنگامہ اور مختلف مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues