Al-Risala · April 2004 · page 44

گفتگو اور اظہار خیال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴

نفاذ کے نام پر ٹکراؤ کی سیاست چلانا وغیرہ سب اسی قسم کے نادانی کے اقدامات ہیں۔ یہ سب وہ لوگ تھے جن پر فرض تھا کہ وہ اپنی نااہلی کے بُرے انجام سے لوگوں کو بچائیں، نہ یہ کہ نااہلی کے باوجود ایسے عملی نشانوں کی طرف چھلانگ لگا دیں جن کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا ہی نہیں۔ ١٩۶۵ کے زمانہ میں جب کہ میں ندوہ (لکھنؤ) میں مقیم تھا، وہاں کے ایک سینیئر استاد میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ برما میں اراکان کے سرحدی علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ میں وہاں جانا چاہتا ہوں تا کہ اس حصہ کو الگ کر کے وہاں اسلامی حکومت بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں آپ میرا ساتھ دیں۔ میں نے کہا کہ استغفراللہ، یہ کوئی منصوبہ نہیں، یہ تو نادانی کی ایک چھلانگ ہے۔ وہ اس پر غصہ ہو گئے اور یہ سمجھ کر چلے گئے کہ میرے اندر اسلامی حمیت نہیں۔ تاہم جیسا کہ معلوم ہے، اراکان میں کچھ جوشیلے رہنماؤں نے علیحدہ مسلم اسٹیٹ کی تحریک چلائی۔ اس تحریک کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ اراکان کے مسلمان تباہ ہو گئے۔ جب برما کی حکومت کی طرف سے ان باغیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو بہت سے مسلمان وہاں سے بھاگ کر بنگلہ دیش آ گئے اور اب وہ بنگلہ دیش میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اراکان میں مفروضہ مسلم اسٹیٹ تو نہیں بنی البتہ جو کچھ مسلمانوں کو وہاں حاصل تھا وہ بھی تباہ ہو گیا۔ اس قسم کی تحریکیں بہت سے ملکوں میں چلائی گئیں۔ میں ان تحریکوں کو پاکستانیزیشن کہتا ہوں۔ اس قسم کی تحریک بلاشبہ ایک نادان تحریک ہے۔ اُس کا کوئی جواز نہ عقل میں ہے اور نہ اسلام میں۔

۸۔ کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ دو قسم کے لیڈر دنیا میں رہے ہیں۔ ایک وہ جن کو ریفارمر کہا جا سکتا ہے، اور دوسرے وہ جن کو پرافٹ کہا جاتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ریفارمر کا نظریہ انسان بمقابلہ انسان (man versus man) کے اصول پر مبنی ہوتا ہے اور پرافٹ کا نظریہ انسان بمقابلہ خدا (man versus God) کے اصول پر قائم ہے۔ ریفارمر کا طریقہ ہمیشہ انسانوں میں دو متحارب گروہ بناتا ہے۔ ریفارمر یہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے ایک گروہ کو معصوم کے طور پر لیتا ہے اور دوسرے گروہ کو خطا وار کے طور پر۔ اور پھر وہ مفروضہ معصوم

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page