گفتگو اور اظہار خیال
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۵
گروہ کو مفروضہ خطا وار گروہ سے ٹکرا دیتا ہے۔
مثلاً فرانس کے سیاسی ریفارمر روسو نے انسانیت کو سیاسی مظلوم اور سیاسی ظالم کے نام سے دو گروہوں میں بانٹا۔ چنانچہ روسو کی کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) اس جملہ سے شروع ہوتی ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر میں اُس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں: Man was born free. But I find him in chains. اس قسم کا نظر ہمیشہ انسانیت کو بانٹتا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان گروہی نزاع پیدا کرتا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ جیسے منفی جذبات پیدا کرتا ہے۔
پرافت کے طریقہ کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ عل وسلم نے فرمایا: الخلق عیال الله (سارے انسان خدا کی فیملی ہیں)۔ اس نظریہ میں ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔ اس طرح یہ نظریہ تمام انسان کو ایک اُصول پر متحد کر دیتا ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے لیے مثبت جذبات فروغ پاتے ہیں، نہ کہ منفی جذبات۔
۹۔ ایک صاحب نے حالات کی شکایت کی۔ اُس کے جواب میں میں نے کہا کہ خدا نے دنیا میں ایسے اسباب رکھ دیے ہیں کہ یہاں ہمیشہ ہلچل جاری رہے۔ آدمی ہر قسم کے موافق اور مخالف حالات کا تجربہ کرتا رہے۔ اس دو طرفہ تجربہ کے بغیر انسانیت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا کہ جو آدمی پھولوں کے چمن میں زندگی گزارے وہ یہ نہیں جانے گا کہ خارستان کیا ہے۔ جو آدمی بلبل کے نغموں کے درمیان جیتا ہو وہ یہ نہیں جانے گا کہ گدھے کی چیخ کیا ہے۔ جو آدمی بے آزار درختوں کے درمیان اپنے صبح و شام بسر کرتا ہو وہ یہ نہیں جانے گا کہ خار دار جھاڑی کیا چیز ہوتی ہے۔ جو آدمی آرام دہ صوفہ پر زندگی گزار رہا ہو وہ یہ نہیں جانے گا کہ ریت اور پتھر کے اوپر سونا کیا ہے۔ ۱۰۔ ایک اعتراض کے جواب میں میں نے کہا کہ ایک افغانی عالم دارالعلوم دیوبند میں اُستاد تھے۔ ایک مجلس میں انہوں نے کہا کہ میں اتنے عرصہ سے ہندستان میں رہتا ہوں اور میری تعلیم دارالعلوم دیوبند میں ہوئی ہے۔ چنانچہ اب میں اُردو زبان اچھی طرح سمجھنے لگا ہوں۔ ایک صاحب نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues