گفتگو اور اظہار خیال
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۶
ان کا امتحان لینے کے لیے پوچھا کہ ’’ کر یلانیم چڑھا‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ افغانی بزرگ نے کچھ دیر سوچا اور اس کے بعد کہا کہ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ آدھا پکا ہوا کر یلا۔ انہوں نے نیم کو نصف کے معنیٰ میں لیا اور چڑھا کو آگ پر ہانڈی چڑھا کر پکانے کے معنی میں۔
اس قسم کی زیادہ بڑی غلطی وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنی کم فہمی کی بنا پر اسلام کی انوکھی تشریح کرتے ہیں۔ وہ قرآن وحدیث سے ایک دو لفظ کو لے کر خودساختہ طور پر اس کا ایک مفہوم بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام یہ ہے۔ مثلاً ایک ہندو نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ تعصب کی بنا پر وہ اقتصادی بدحالی کا شکار ہیں۔ مگر یہ مسلمانوں کے لیے کوئی شکایت کی بات نہیں۔ اس لیے کہ اُن کے پیغمبر نے خود کہا ہے ’’ بدأ الاسلام غريباً وسيعود كما بدأ‘‘۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غریبوں کا مذہب ہے، مسلمان پہلے بھی غریب تھے اور بعد کو بھی وہ غریب رہیں گے۔ ایسی حالت میں اگر مسلمان اقتصادی اعتبار سے کمزور ہوں تو اس میں شکایت کی کوئی بات نہیں۔ یہ تو عین وہی بات ہے جو خود اُن کے پیغمبر نے کہی ہے۔
مذکورہ ہندو نے حدیث کا یہ مطلب اس لیے نکالا کہ اُس نے اپنے ذہن کے مطابق ، غریب کا مطلب محتاج (poor) سمجھا تھا۔ حالاں کہ غریب کا مطلب عربی زبان میں اجنبی (stranger) کے ہیں۔
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ سچے خدا پرست بن کر رہیں ، آپ اللہ کے دین کے داعی بنیں، آپ اللہ کی پسند والی زندگی گذاریں تو آپ کو کچھ ایسی چیزوں کو چھوڑنا پڑے گا جو آپ کی دینی زندگی کو ڈسٹرب کرنے والے ہوں۔ مثلاً اس کے لیے آپ کو حرص کو چھوڑنا پڑے گا۔ ورنہ آپ دنیا میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ آخرت کے کام کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہیں رہے گا۔ اسی طرح آپ کو ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھنا ہوگا، ورنہ آپ کا ذہن غصہ اور نفرت اور انتقام اور کینہ کا کارخانہ بن جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ اللہ کے سچے تعلق سے محروم ہو جائیں گے۔ اسی طرح آپ کو وقت کے ضیاع سے بچنا ہوگا، ورنہ آپ کے پاس دین کے کام کے لیے کوئی ٹائم ہی نہیں رہے گا۔ اسی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues