گفتگو اور اظہار خیال
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۷
طرح آپ کو اسراف سے بچنا ہوگا، ورنہ آپ کا مالی بجٹ اس طرح غیر مستحکم ہو جائے گا کہ آپ ساری زندگی پیسہ کمانے میں لگے رہیں گے اور کوئی مزید کام نہ کر سکیں گے، وغیرہ۔ ۱۱۔ ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ نماز اللہ کی عبادت کا ایک محفوظ اور غیر محرف فارم ہے۔ یہ بلاشبہ اہل اسلام کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ کیوں کہ کسی دوسرے مذہبی نظام میں اللہ کی عبادت کا وہ فارم محفوظ نہیں جو اللہ کو مطلوب ہے اور جس کی تعلیم اُس نے پیغمبروں کے ذریعہ دی۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: و ما کان صلوتهم عند البيت الا مکاء و تصدیہ (التوبہ) عام طور پر اس آیت کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ رسول اللہ جب کعبہ میں نماز پڑھتے تو مشرکین آپ کی نماز کو ڈسٹرب کرنے کے لیے سیٹی بجاتے اور تالی بجاتے۔ مگر آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اُن کے یہاں نماز تھی مگر وہ بگڑی ہوئی حالت میں تھی۔ پچھلے مذہبوں میں عبادت الہی کا جو فارم بتایا گیا تھا وہ بعد کے زمانہ میں اپنی ابتدائی شکل میں باقی نہیں رہا۔ دینی اسپرٹ اور اللہ سے تعلق میں کمی کے نتیجہ میں اُن کی عبادت خارجی مظاہر میں تبدیل ہو کر عبادت کا صرف ایک ناقص فارم بن گئی۔ یہی وہ ناقص فارم ہے جو آج اسلام کے سوا تمام مذہبوں میں دکھائی دیتا ہے۔ عبادت کے وقت گانا اور بجانا اور تالی پیٹنا اور رقص کرنا یا الفاظ کی جَپ (chanting) کرنا اس کی مثالیں ہیں۔
اسلام میں بھی بعد کے زمانہ میں طرح طرح کی بدعات کی صورت میں عبادت کے فارم کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ مگر یہ بدعات اسلام کے اصل عبادتی فارم کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ۱۲۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے کہ جن مختلف چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتایا جاتا ہے اُن میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی حیثیت سنت نبوی کی نہیں ہے بلکہ اُن کی حیثیت عادت عرب کی ہے۔ چوں کہ عرب کے سماج میں ان چیزوں کا رواج تھا اس لیے آپ نے بھی اُن کو اختیار کر لیا، مثلاً عمامہ، وغیرہ۔ میں اس بات کو لفظ بدل کر یہ کہوں گا کہ پیغمبر اسلام نیز ہر پیغمبر کی زندگی میں دو قسم کی چیزیں ہوتی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues