Al-Risala · April 2004 · page 48

گفتگو اور اظہار خیال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۸

ہیں۔ ایک، سنتِ پیغمبر اور دوسرے، عادتِ انسانی۔ سنتِ پیغمبر کا تعلق اُن افعال سے ہے جن پر آخرت کی نجات کا انحصار ہے اور عادتِ انسانی کا تعلق اُن چیزوں سے ہے جن کا تعلق دنیا میں صاف ستھری زندگی گزارنے سے ہے۔

مثلاً حضرت ابراہیم گھوڑے پر سواری کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی سواری اونٹ تھی۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ قدیم عراق میں گھوڑے کی سواری کا رواج تھا اور قدیم عرب میں اونٹ کی سواری کا رواج۔ رسول اللہ ﷺ نے مدعو کی زیادتیوں پر صبر کیا۔ یہ بھی آپ کی ایک سنت تھی۔ اس سنت کا تعلق آخرت کی کامیابی سے ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے عمامہ اور خضاب، وغیرہ کے معاملہ میں ایک طریقہ اختیار فرمایا۔ ان طریقوں کا تعلق حقیقۃً عادتِ انسانی سے تھا، نہ کہ سنتِ نبوی سے۔ ان دونوں قسم کے طریقوں یا سنتوں میں فرق کرنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ان دونوں کے درمیان فرق نہ کیا جائے تو اُس کا نقصان یہ ہوگا کہ لوگ دنیوی اہمیت کی چیزوں کو وہ درجہ دے دیں گے جو آخرت والی اہمیت کی چیزوں کا درجہ ہے۔ وہ اُس کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیں گے۔ حالاں کہ تقویٰ کا تعلق دل سے ہے، نہ کہ ظاہری چیزوں سے۔

۱۳۔ ایک صاحب کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ گرنے کا نام ہار نہیں۔ ہارنے والا وہ ہے جو گرنے کے بعد اُٹھنے والا نہ سکا۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں گرنا بھی ہوتا ہے اور اُٹھنا بھی۔ یہاں کامیابی بھی آتی ہے اور ناکامی بھی۔ یہاں کبھی فائدہ ہوتا ہے اور کبھی نقصان۔ ایسی حالت میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اس دنیا میں ہمیشہ کامیاب ہو، اس کو کبھی ناکامی کا تجربہ پیش نہ آئے۔ اس دنیا میں کامیابی کی صحیح تعریف یہ ہے کہ آدمی کو جب فطرت کے قانون کے مطابق، ناکامی کا تجربہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہو، وہ اپنا حوصلہ نہ کھوئے۔ وہ ہر ناکامی کے بعد دوبارہ اپنی جدوجہد شروع کردے، وہ ہر ناکامی کے بعد از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکے۔

۱۴۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے مرزا غالب کا ایک واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ مرزا غالب کے پاس اُن کے ایک تاجر دوست جو اُن کے معتقد تھے آئے اور کہا کہ میں دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page