Al-Risala · April 2004 · page 49

He was born with a silver spoon in his mouth.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۹

چھوڑ کر کلکتہ جا رہا ہوں۔ آپ سے رخصتی ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ مرزا غالب نے پوچھا کہ آپ دہلی چھوڑ کر کلکتہ کیوں جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دلی میں میرا کاروبار نہیں چل رہا ہے وہاں جا کر کوشش کروں گا۔ مرزا غالب نے کہا کہ جب آپ کلکتہ پہنچیں تو وہاں کے اللہ میاں کو ہمارا سلام کہنا۔ اس پر مذکورہ تاجر دوست نے کہا کہ کیا وہاں کے اللہ میاں الگ ہیں۔ مرزا غالب نے جواب دیا کہ اگر وہاں کے اللہ الگ نہ ہوتے تو آپ دلی چھوڑ کر کلکتہ نہیں جاتے۔ اس کے بعد دوست لا جواب ہو گئے اور اُنہوں نے کلکتہ جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک منطقی انداز اور دوسرا پر لطف انداز۔ مرزا غالب کا مذکورہ واقعہ کسی بات کو پر لطف انداز میں کہنے کی ایک مثال ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ علمی اور منطقی طریقہ ہے۔ پہلا طریقہ ہر آدمی کو اپیل کرتا ہے اور دوسرا طریقہ صرف سنجیدہ لوگوں کو اپیل کرے گا۔ ۱۵۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کوئی شخص پیدا ہوتے ہی ہر قسم کا مادی ساز و سامان پالے۔ باپ کی کمائی کی بنیاد پر اُس کو ابتدا ہی میں ہر قسم کی آسانیاں مل جائیں تو عام لوگ اس کو ایک خوش قسمت انسان سمجھتے ہیں۔ انگریزی میں ایسے آدمی کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اپنے منھ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوا۔

He was born with a silver spoon in his mouth.

مگر میرے تجربہ کے مطابق، سب سے زیادہ محروم انسان وہ ہے جو اپنی کم عمری ہی میں اپنی پسندیدہ چیز پالے۔ مثلاً پر کشش بیوی، شاندار مکان، زرق برق کار، بینک بیلنس، دوستوں کا حلقہ، محنت کے بغیر کافی آمدنی، عزت اور عہدہ، وغیرہ۔ ابتدائی عمر میں آدمی زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ملی ہوئی چیز کو کافی سمجھ کر بس اسی میں گم ہو جاتا ہے۔ راحت اور لذت ہی کو وہ اپنا سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بس ایک فربہ اور خوش پوش حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ اُس کی ذہنی سطح حیوانی سطح سے آگے نہیں بڑھتی۔

اصل یہ ہے کہ انسان فطرت سے بے پناہ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت ابتداء

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page