Al-Risala · April 2004 · page 50

He was born with a silver spoon in his mouth.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۰

غیر پختہ حالت میں ہوتی ہے۔ پینتیس سال کے بعد انسان پختگی کی حالت پر پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر انسان گویا ایک خام لوہا (ore) ہوتا ہے جس کو دوبارہ ااسٹیل(steel) (steel) بننا ہے۔ یہ ارتقائی مرحلہ صرف پر مشقت حالات کے درمیان طے ہوتا ہے۔ پرمشقت حالات اور چیلنج کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو اس ارتقائی عمل میں کار آمد ہو سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی زندگی کے آغاز ہی میں وہ حالات پالے جس میں اُس کو کچھ کیے بغیر سب کچھ مل جائے، وہ گویا خام لوہے کے درجہ میں پڑا رہے۔ اس کے برعکس جو آدمی پر مشقت حالات سے گزرے اور چیلنج کا سامنا کر کے اپنی زندگی بنائے وہ اس عمل کے دوران خام لوہے سے ترقی کر کے قیمتی سٹیل بن جائے گا۔

۱۶۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل ( صحیح البخاری، کتاب الجہاد، سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، مسند احمد) یعنی کچھ لوگ زنجیروں میں باندھ کر جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ اس حدیث کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زنجیر میں باندھنے کا یہ واقعہ آخرت میں پیش آئے گا۔ مگر یہ بات درایت یا کامن سنس کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ آخرت میں اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ اس کو جنت دے دی گئی ہے تو وہ خود ہی بھاگ کر جنت میں داخل ہو جائے گا، نہ یہ کہ اس کو باندھ کر زبردستی جنت میں پہنچانا پڑے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں پیش آئے گا۔ زنجیر میں باندھنا اس کو دنیا کی مصیبتوں میں ڈالنا ہے۔ زنجیر میں باندھنا دنیا کی مصیبتوں میں مبتلا کرنے کی ایک تعبیر ہے۔ یہ معاملہ غالباً ان مخصوص لوگوں کے ساتھ پیش آئے گا جن کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبتوں میں پڑیں تو وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہو جائیں۔ بلکہ مصیبت کا واقعہ ان کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا کر دے۔ وہ ان کو اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ جن افراد کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے اُن کے لیے مصیبت کا تجربہ ربانی نفسیات جگانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ غفلت سے نکل کر اللہ کی یاد کرنے والے بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ پورا واقعہ آج کی دنیا میں ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page