He was born with a silver spoon in his mouth.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۱
۱۷۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ اس بنا پر ناول اور افسانے عمومی طور پر پائے نہیں جاتے تھے۔ ٹی وی اور سینما جیسی تفریحی چیزیں بھی موجود نہ تھیں۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جن کو قصاص یا قصہ گو (story teller) کہا جاتا تھا۔ یہ افراد لوگوں کے لیے تفریح کا سامان فراہم کرتے تھے۔ دورِ پریس سے پہلے اس قسم کے افراد ہر سماج میں ہر مقام پر ہوا کرتے تھے۔ میں نے خود بھی اپنے بچپن میں ایک قصہ گو کو دیکھا ہے۔ یہ ایک مسلمان تھے جن کا نام گھُرہو تھا۔ وہ بچوں یا بڑوں کو اکٹھا کر کے عجیب و غریب قصے سنایا کرتے تھے۔ یہ فرضی قصے اتنے دلچسپ ہوتے تھے کہ آدمی گھنٹوں سننے کے باوجود اکتا تا نہ تھا۔ فتوحات کے بعد جب اسلام شام و ایران اور مصر و عراق و غیرہ جیسے ملکوں میں داخل ہوا تو وہاں اس قسم کے بہت سے قصاص موجود تھے۔ ان لوگوں کے اثر سے مسلمانوں میں بھی قصاص کا گروہ پیدا ہو گیا۔ ان لوگوں نے مزید یہ کیا کہ قصہ گوئی کو اسلامائز کر لیا۔ یعنی عجیب و غریب قسم کی کہانیوں کو رسول اور اصحاب رسول اور بزرگانِ دین کے حوالہ سے بیان کرنے لگے۔ یہ قصہ گوئی چونکہ عربی زبان میں ہوتی تھی۔ اس لیے جب ان کا مجموعہ کتابی شکل میں مرتب ہو کر پھیلا تو لوگ اس کو سچ مُچ حدیث کی طرح مقدس سمجھنے لگے۔ یہ فرضی قسم کی مقدس کہانیاں مسلم دنیا میں پھیل گئیں اور پھر وہ ترجمہ ہو کر ہندوستان جیسے ملکوں میں بھی پہنچ گئیں۔
اس قسم کی پر اسرار اور پر عجوبہ کہانیاں سراسر بے اصل ہیں۔ وہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑتی ہیں۔ وہ مسلمانوں سے صحیح دینی اسپرٹ ختم کر دینے والی ہیں۔ ان انوکھی کہانیوں میں دنیا کی بھی تباہی ہے اور آخرت کی بھی تباہی۔ دنیا کی تباہی اس لیے کہ اس قسم کی کہانیاں آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی تباہی اس لیے کہ آدمی اس جھوٹے بھرم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ حقیقی عمل کے بغیر سستے اعمال کر کے وہ جنت حاصل کر سکتا ہے۔
۱۸۔ ایک مجلس میں میں نے قرآن کی دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اُس حق کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues