He was born with a silver spoon in his mouth.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۲
آگے جو نازل ہوا ہے ۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی ، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور اُن میں سے اکثر نافرمان ہیں ۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اُس کی موت کے بعد ۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں ، تاکہ تم سمجھو (الحدید ۱۶-۱۷)
اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمت مسلمہ پر اسرار طور پر قساوت میں مبتلا ہونے سے محفوظ کر دی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قساوت کا تعلق فطرت کے قانون سے ہے اور وہ ہر امت کے ساتھ بعد کی نسلوں میں ڈی جنریشن (de-generation) کے نتیجہ میں پیش آتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر کی امت کی پہلی جنریشن معرفت (realization) کے ذریعہ خدا کے دین میں داخل ہوتی ہے ۔ اس کا ایمان ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ مگر بعد کی نسلوں میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ صرف پیدائش کی بنا پر مسلم گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے امت کے بعد کی نسلوں میں خشوع کا عنصر ختم ہو جاتا ہے ۔ کیوں کہ خشوع معرفت سے آتا ہے ، نہ کہ پیدائشی وراثت سے ۔
فرمایا کہ بعد کی نسلوں میں جب ایسا ہو تو یہ کرنا ہو گا کہ دوبارہ لوگوں کے شعور کو جگایا جائے اور اُنہیں پھر سے معرفت والے ایمان پر کھڑا کیا جائے ۔ اسلام کو اُن کے لیے ری ڈسکوری (re-discovery) بنایا جائے ۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے قرآن میں زمین کی مثال دی گئی ہے۔ زمین کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد مردہ (بنجر) ہو جاتی ہے ۔ اُس وقت کسان زرعی عمل کر کے اُس زمین کو دوبارہ فصل کے قابل بناتا ہے ۔ ڈی جنریشن کے بعد ری جنریشن (re-generation) کا یہی معاملہ امت میں نسل در نسل جاری رہنا چاہیے ۔ تا کہ وہ قساوت سے بچے اور وہ خشوع والے ایمان پر قائم رہے ۔
۱۹ ۔ ایک مجلس میں میں نے مولانا اسحاق کمال قادری کا واقعہ بیان کیا ۔ وہ عرصہ سے ماہنامہ الرسالہ اور میری کتابوں کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ ایک بار حیدر آباد میں کئی دن اُن کو میری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ۔ اس دوران میں نے اُن سے پوچھا کہ اس تجربہ کی روشنی میں آپ بتائیں کہ تحریر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues