He was born with a silver spoon in his mouth.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۳
اور صحبت میں کیا فرق ہے۔ یعنی کسی شخص کو کتابوں میں پڑھ کر اُس کے بارہ میں کتنا علم ہوتا ہے اور اُس کی صحبت میں رہ کر براہ راست اُس کی زبان سے سننے میں کیا حاصل ہوتا ہے۔ میرے بارہ میں تجربہ کی نسبت سے آپ اس فرق کو بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس شخصیت کے قول و عمل میں تضاد ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف تحریر کو پڑھ کر نہیں ہوسکتا مگر صحبت سے بخوبی طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ صحبت کے بعد یا تو آدمی کی عظمت گھٹ جاتی ہے یا اُس کی عظمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پھر انہوں نے میرے بارہ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ میں نے آپ کی تحریر اور آپ کے عمل میں کوئی تضاد نہیں پایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے ساتھ قلبی تعلق میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔ ۲۰۔ کم آمدنی والے لوگوں میں میں نے اکثر ایک مشترک مزاج پایا ہے۔ وہ یہ کہ یہ لوگ اکثر اس فکر میں رہتے ہیں کہ اپنی آمدنی کو کسی نہ کسی طرح بڑھائیں تاکہ اُن کے بچوں کو زیادہ آرام وراحت مل سکے۔ اس قسم کے ایک صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک غلط مزاج ہے۔ یہ مزاج آدمی کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس کا ملا ہوا سکون بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس صحیح مزاج یہ ہے کہ آدمی آئندہ ترقی کے معاملہ کو بچوں پر چھوڑ دے۔ اُس کو جو کچھ مل رہا ہے اُس پر وہ راضی رہ کر گزارہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی آمدنی اگر فطری طور پر بڑھ جائے تو وہ اُس کو اللہ کا انعام سمجھ کر ادا کرے۔ لیکن وہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے زیادہ ہاتھ پاؤں نہ مارے۔ اُس کو چاہئے کہ وہ زیادہ آمدنی کے لیے اپنے بچوں کو تیار کرے۔ بچوں کو تعلیم دینا، بچوں کو ہنر سکھانا، بچوں کے اندر شعور حیات پیدا کرنا، یہ سب مستقبل کے لیے اُس کا نشانہ ہونا چاہئے۔ اس کا دو نکاتی فارمولا یہ ہونا چاہئے—اپنے لیے قناعت، اور بچوں کے لیے ترقی۔
۲۱۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ایک دیہاتی مقولہ ہے: پٹہ بھر جوتے، کچہری میں کھوکھے۔ یعنی آدمی کے پاس جوتنے کے لیے ایک بالشت زمین ہو مگر کچہری میں وہ آئے دن پہنچارہے۔ یہ مقولہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues