The Bible, The Qur'an and Science
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۵
ہو چکا ہے۔ یہ خالص علم انسانی کی سطح پر یہ ثابت کر رہا ہے کہ کائنات کا پیدا کرنے والا ایک خالق ہے۔ اُس نے تقریباً ۲۰ بلین سال پہلے ہماری کائنات کو وجود دیا۔
اس سائنسی تحقیق کے بعد اب کسی سنجیدہ انسان کے لیے خدا کے وجود کا انکار کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ اس تحقیق کے بعد اب انسان کے سامنے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ خالق کے وجود کو مانے یا کائنات کے وجود کا انکار کر دے اور خود اپنے وجود کا بھی۔ قرآن میں ایک پیشگی اطلاع یہ دی گئی تھی کہ ـــ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (حم السجدہ ۵۳) اس آیت میں بتایا گیا تھا کہ مستقبل میں خالص علمی تحقیق کے ذریعہ ایسی شہادتیں سامنے آئیں گی جو قرآن کی صداقت کا یقینی ثبوت ہوں۔ یہ شہادتیں اب پوری طرح ظاہر ہو چکی ہیں۔ اس موضوع پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب ڈاکٹر مورث بکائی کی ہے جو فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی اور پھر مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ انگریزی میں اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Bible, The Qur'an and Science
اس سلسلہ میں تیسری چیز دابۃ ہے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے ـــ اور جب اُن پر بات آپڑے گی تو ہم اُن کے لیے زمین سے ایک دابۃ نکالیں گے جو اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے (النمل ۸۲)
اس آیت میں دورِ آخر میں نکلنے والے دابۃ کا ذکر ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں موبائل ٹیلی فون اسی دابۃ کی مشینی تعبیر ہے۔ موبائل ٹیلی فون نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان بعید فاصلوں سے ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ دونوں کے درمیان بظاہر کوئی مادی رشتہ موجود نہ ہو۔ اور جب انسان اور انسان کے درمیان فاصلہ کے باوجود غیر مرئی طور پر ربط قائم ہو سکتا ہو تو انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ اور یہی رسالت اور وحی کا معاملہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues