Al-Risala · April 2004 · page 56

The Bible, The Qur'an and Science

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۶

اس طرح اب خدا کی طرف سے انسانی نسلوں کے اوپر خود علم انسانی کے ذریعہ آخری اتمام حجت ہو چکا ہے۔ اور جب لوگوں کے اوپر آخری اتمام حجت ہو جائے تو اُس کے بعد قیامت کے ظہور میں کوئی سبب تاخیر باقی نہیں رہتا۔

۲۳۔ میرٹھ کے سفر میں ایک خاص بات میں نے یہ دیکھی کہ یہاں جو لوگ الرسالہ مشن سے جڑے ہوئے ہیں وہ اسی کے ساتھ وہ کام بھی کر رہے ہیں جس کو موجودہ زمانہ میں سوشل سروس کہا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ دعوہ ورک مستقل طور پر کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ سوشل ورک بھی مستقل طور پر انجام دیتے ہیں۔ مولانا عرفان صاحب، ساجد خاں صاحب اور شہزاد علی صاحب وغیرہ، سب اس میں شریک ہیں، ان کا سوشل ورک مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں میں ہو رہا ہے۔ یہ طریقہ بے حد اہم ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مختلف اسباب سے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں دوری پیدا ہوگئی ہے۔ نفرت اور کشیدگی کا ماحول بن گیا ہے۔ ایسی حالت میں دعوت کا کام عملی طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حالات میں پہلا کام یہ ہے کہ دوری کو مٹایا جائے ۔ نفرت کو ختم کیا جائے ۔ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے اس کے بعد ہی داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل ماحول بنے گا جس کے تحت کامیابی کے ساتھ دعوہ ورک ہو سکے۔ میرٹھ کا حلقہ اس معاملہ کی ایک قابل تقلید مثال ہے۔ ایک صاحب سے اس مثال کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرٹھ میں دعوت کا کام آگے بڑھے گا۔ کیونکہ یہاں دعوت کی ابتدائی بنیاد موجود ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر جگہ مسلمانوں کو سچی خیر خواہی کے ساتھ سوشل ورک کرنا چاہئے، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے۔ میں نے کہا کہ’’ امت پنا‘‘ کا تصور اسلام کی آفاقی روح کے خلاف ہے۔ اسلام کی اصل روح ’’انسانیت پنا‘‘ ہے نہ کہ ’’امت پنا‘‘۔ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کا مزاج دعوت کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک یہ مزاج نہ بدلے، حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔ ۲۴۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک دینی صفت بالکل اُٹھ گئی ہے اور وہ سادگی ہے۔ حالاں کہ سادگی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کو ایمان کا ایک جزء بتایا گیا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page