Al-Risala · April 2004 · page 57

The Bible, The Qur'an and Science

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۵۷

ہے ۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ : ہم کو تکلف سے منع کیا گیا ہے (نھینا عن التکلف) ہر معاملہ میں سادگی کا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے اور تکلف کا طریقہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ بیماری اتنی عام ہے کہ ہر ملک میں اس کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

کھانا صحت کے لیے ہے۔ صحت بخش کھانا وہی ہے جو سادہ کھانا ہو۔ مگر مسلمانوں نے ساری دنیا میں کھانے کو لذت کی چیز سمجھ لیا ہے۔ ہر مسلمان کی کمائی کا سب سے بڑا حصہ اس پر خرچ ہوتا ہے کہ کھانے کو زیادہ سے زیادہ لذیذ بنایا جائے۔ یہ لذیذ کھانا اسراف بھی ہے، وہ صحت کو بھی خراب کرتا ہے اور سادگی کے مزاج کو بھی ختم کرتا ہے۔ جب کہ سادگی ایمان کی پرورش کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی لذیذ کھانا کھائے وہ نہ صرف اپنی صحت کو کھوتا ہے بلکہ وہ اس سے بھی محروم ہو جاتا ہے کہ اس کو اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ ہو۔ لذیذ کھانا گہرے ایمانی احساس کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو لوگ لذیذ کھانے سے اوپر نہ اٹھ سکیں وہ ایک قسم کے خوش پوش حیوان ہیں، انہیں کبھی بلند انسانیت کا تجربہ نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح لباس اور تہوار اور تقریبات اور شادی بیاہ اور سماجی رسوم اور خاندانی رواج میں اور بچوں کی ناز برداری میں تقریباً ہر مسلمان اتنا زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے جو بلا شبہہ اسراف اور تبذیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اسراف و تبذیر میں مبتلا ہونے والوں کو قرآن میں شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ یہ بے حد خطر ناک بات ہے۔ ایسے لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب کہ آخرت میں ان کے بارے میں اعلان کیا جائے کہ یہ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔ ان کو اس مقام پر لے جاؤ جس کو شیطانوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

۲۵۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک برائی بہت عام ہے۔ وہ کسی ایک حدیث کو لے لیں گے اور اس کو مطلق اور عمومی بنا کر اس کے معاملہ میں آخری حد تک پہنچ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم فلاں حدیث پر عمل کر رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ سراسر غیر اسلامی فعل ہے۔ اس روش پر سخت مواخذہ کا اندیشہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page