Al-Risala · May 2004 · page 4

خدا کا کریشن پلان

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴

اس طرح استعمال کرے کہ پورا اختی رکھتے ہوئے بھی وہ اس احساس میں جی رہا ہو کہ اصل اقتدار ار خدا کا ہے۔ خدا حاکم ہے اور میں محکوم۔ یہ خدا کی عنایت ہے کہ اس نے اپنی حاکمانہ حیثیت کے باوجود مجھے آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع دے دیا۔ دنیا کے دار الامتحان میں یہی دو بنیادی پرچے ہیں۔ انہی دونوں پرچوں میں پاس ہونے یا فیل ہونے پر آدمی کی اخروی زندگی کا فیصلہ ہونا ہے۔ یعنی آزادانہ طور پر خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کامحکوم بنالینا۔

قرآن کے مطابق، جنت ان افراد کو ملے گی جو دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو نفس مزکیٰ (۲۰ ۷) ثابت کریں۔ یعنی پاک روح (purified soul)۔ موجودہ دنیا کا پورا ماحول اسی مقصد کے تحت بنایا گیا ہے۔ اس لیے یہاں آدمی کو کبد میں پیدا کیا گیا ہے (البلد ۴) اس مقصد کے لیے دنیا میں یہ ماحول قائم کیا گیا ہے کہ یہاں لوگوں کے درمیان انٹرسٹ کا ٹکراؤ (clash of interest) پیش آئے، حتیٰ کہ باہمی عداوت کی نوبت آجائے (طہٰ ۱۲۳) اس لیے دنیا خدا کی آیات (signs) سے بھری ہوئی ہے تاکہ آدمی ان سے نصیحت لے سکے۔

فطرت کے اندر بے شمار خدائی راز چھپادیے گئے ہیں تاکہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کر کے ان رازوں کو دریافت کرے۔ اسی لیے دنیا میں حق کے داعی کو عام انسان کے روپ میں پیدا کیا گیا تا کہ لوگ تعصبات سے اوپر اٹھ کر اس کو پہچانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ربانی حقائق کو یہاں غیب کے پردے میں چھپا دیا گیا ہے تاکہ انسان غور وفکر کے ذریعہ انہیں دریافت کرے۔ طرح طرح کے مادی انٹرسٹ رکھ دیے گئے ہیں تا کہ انسان وقتی انٹرسٹ سے بلند ہو کر اعلیٰ سطح پر جینے کا ثبوت دے سکے۔ اس لیے انسان کے اندرانا (ego) کا جذبہ رکھا گیا ہے تاکہ خدا یہ دیکھے کہ کون اپنی انا کا شکار ہو جاتا ہے اور کون انا کے خول سے باہر آ کر بلند تر حقیقتوں کا اعتراف کرتا ہے۔ اس مقصد کے تحت انسان کے اندر طرح طرح کی خواہشیں (desires) رکھی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون خواہشوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اور کون اس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ خدا نے دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے کہ ہر چیز کے ساتھ ایک شبہ کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page