Al-Risala · May 2004 · page 5

خدا کا کریشن پلان

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۵

عنصر (element of doubt) لگا ہوا ہے۔ مثلاً حق کاداعی ہے تو وہ بھی انسان کے روپ میں ہے، نہ کہ فرشتہ کے روپ میں۔ دنیا میں نعمتیں ہیں تو اسی کے ساتھ مصیبتیں (sufferings) بھی ہیں۔ خدا اپنی تخلیقات میں نمایاں بھی ہے مگر اسی کے ساتھ اس کی ذات کامل طور پر مخفی بھی ہے۔ یہ بھی انسان کے امتحانی پرچہ کا ایک جزء ہے کہ وہ شبہات کے پردے کو پھاڑ کر سچائی کو دیکھے۔ وہ ہر قسم کے نا خوشگوار پہلوؤں سے بخیر خوبی گزرتے ہوئے اپنا روحانی اور فکری سفر جاری رکھے۔

اس قسم کی تمام چیزیں انسان کے لیے شخصی ارتقاء (personality development) کے کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور یہی وہ ارتقاء یافتہ شخصیت ہے جو اس قابل ہوگی کہ اس کو جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسایا جائے۔

خدا کا یہی تخلیقی نقشہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم 0 ثم رددناه اسفل سافلین 0 الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات فلهم اجر غير ممنون (التین ۴-۶)

ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو اُن کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ قرآن کی ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک اعلیٰ مخلوق ہے۔ وہ اُن تمام صفتوں کا حامل ہے جو اُس کو جنت میں آبادکاری کے مستحق بنائیں۔ مگر جنت میں داخلہ سے پہلے انسان کو موجودہ زمین میں عارضی طور پر بسایا گیا۔ یہاں ہر قسم کے امتحانی اسباب رکھے گئے۔ یہ اسباب اُس کو قدم قدم پر جنت سے دور کرنے والے ہیں۔ ان اسباب کو پہچانا اور ان اسباب کا شکار ہوئے بغیر اپنی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھنا، یہی وہ شرط ہے جو انسان کو اس کی مطلوب دنیا (جنت) میں اس کو پہنچانے والی ہے۔ یہی جنتی دنیا احسن تقویم کا اصل جائے مقام ہے۔ جو لوگ زمینی زندگی میں اس کا استحقاق ثابت نہ کرسکیں وہ پیدائشی طور پر احسن تقویم ہوتے ہوئے اسفل السافلین میں جاگرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page