خدا کا کریشن پلان
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۶
اس معاملہ کی مزید وضاحت قرآن کی کچھ آیات سے ہوتی ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو، جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر اُن کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ (البقرہ ۱۵۵۔۱۵۷)
قرآن کے اس بیان میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خدا نے اس دنیا کو انسان کے لیے آرام گاہ کے طور پر نہیں بنایا ہے بلکہ اُس کو امتحان گاہ کے طور پر بنایا ہے۔ اس تخلیقی نقشہ کی بنا پر اس دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار انسان کے ساتھ جانچنے والے حالات پیش آئیں۔ یہاں بار بار ایسے ناموافق تجربات گزریں جو انسان کے ذہن کو شاک دینے والے ہوں۔ انسان کے ذہن میں مختلف قسم کے شبہات ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ وہ شبہہ کا شکار ہو گیا یا اُس سے اپنے آپ کو بچانے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی امتحانی مصلحت کی بنا پر زمین پر زلزلے آتے ہیں۔ تاکہ انسان کے یقین کو جانچیں۔ یہاں طرح طرح کی مصیبتیں (sufferings) پیش آتی ہیں تا کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان ان کی توجیہہ کرنے میں اپنے عقل کو صحیح طور پر استعمال کر سکا یا وہ اس میں نا کام رہا۔ اسی امتحانی مصلحت کی بنا پر یہاں ایسے ناخوشگوار حالات پیش آتے ہیں جو آدمی کے سینہ میں منفی جذبات کا طوفان برپا کریں۔ اس طرح خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون منفی جذبات کے سیلاب میں بہہ گیا اور کون اپنے آپ کو اس سے بچانے میں کامیاب رہا۔
اس امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے سب سے اہم شرط صبر ہے۔ یہاں صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ساتھ جو بھی خوشگوار یا ناخوشگوار تجربات گذريں اُن کو وہ خدا کے تخلیقی نقشہ کا نتیجہ قرار دے۔ ہر تجربہ کا استقبال وہ اس طرح کرے کہ یہ صرف میری جانچ کے لیے ہے۔ میری ساری کوشش یہ ہونا چاہیے کہ میں اس جانچ میں پورا اتروں۔ زندگی کے تجربہ کو وہ خدائی امتحان کا پرچہ سمجھ کر لے اور