Al-Risala · May 2004 · page 8

مطالعۂ حدیث

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۸

مطالعۂ حدیث

حدیث کا مطالعہ، بالواسطہ طور پر، قرآن کا مطالعہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو۔ ایک حدیث کے بارہ میں جب اصولی طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے تو شرعی اعتبار سے اُس کا استناد ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسا کہ خود قرآن کا استناد۔

جہاں تک مضامین کا تعلق ہے، قرآن میں دین کی اساسی تعلیمات کا بیان ہے اور حدیث میں دین کی تفصیلی تعلیمات کا بیان۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی اصولی تعلیمات حدیث کے متن ہی سے تفصیلی طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ حدیث کی مدد کے بغیر قرآن کا سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ حدیث کا ذخیرہ، وسیع ترتقسیم کے اعتبار سے، دو قسم کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ایک، روح اسلام اور دوسرے وہ چیز جس کو شرائع کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مجموعہ میں زیادہ تر پہلی قسم کی احادیث کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

عربی زبان میں کثرت سے حدیث کی شرحیں لکھی گئی ہیں۔ یہ شرحیں زیادہ تر فنی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ مثلاً نحوی مسائل، اسناد کی بحث، حدیثوں میں تعارض کا مسئلہ، مختلف فقہی مسالک سے احادیث کی مطابقت، وغیرہ۔

زیر نظر مجموعہ میں حدیث کی تشریح کا یہ فنی انداز اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ ہم نے صرف یہ کوشش کی ہے کہ حدیث میں نصیحت اور سبق کا جو پہلو ہے اُس کو نمایاں کیا جائے۔ احادیث کو سمجھنے کے سلسلہ میں چند اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان اصولوں کو اگر سامنے رکھ کر حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو وہ اشکالات پیدا نہیں ہوں گے جو کچھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حدیث کی اہمیت ہی کے بارہ میں مشتبہ ہو جاتے ہیں۔

۱۔ اس سلسلہ میں ایک چیز یہ ہے کہ حدیث میں بعض اوقات کسی حکم کو عمومی انداز میں بیان کیا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page