Al-Risala · May 2004 · page 9

مطالعۂ حدیث

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۹

جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اُس کو مطلق مفہوم میں لے لیتے ہیں۔ حالاں کہ کوئی بات اگر بظاہر مطلق انداز میں بیان کی جائے تب بھی وہ مطلق طور پر مطلوب نہیں ہوتی۔ اکثر حالات میں اُس کا مقصد صرف تاکید ہوتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ (مسلم وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں)۔

اس حدیث میں بیک وقت دو قسم کا حصر موجود ہے۔ ایک یہ کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق، اس میں مسلم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے جس میں ایمان و عبادات، وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں۔ اور دوسرے یہ کہ اس میں المسلمون ہے، نہ کہ الناس۔ مگر یہ دونوں باتیں اضافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور عبادات کا تذکرہ نہ ہونے کے باوجود وہ یہاں معہود ذہنی کے طور پر موجود ہے۔ اسی طرح المسلمون کے باوجود الناس بھی اُس میں تبعاً شریک ہیں۔

۲- احادیث میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو حقیقۃً تمثیل کی زبان میں ہیں۔ مگر لوگ اُس کو لفظی طور پر لے لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اشکال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: انما الحر من فیح جهنم (گرمی جہنم کی پھونک سے ہے)۔ یہ جہنم کی گرمی کی شدت کو بتانے کے لیے ایک تمثیل ہے۔ اُس کو لفظی مفہوم میں لینا صحیح نہ ہوگا۔ اسی طرح عذاب قبر کے بارہ میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ بھی تمثیل کی زبان میں ہیں، نہ کہ حقیقت کی زبان میں۔

۳- اسی طرح حدیث کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی ایک حدیث کو لے کر رائے قائم نہ کی جائے بلکہ مختلف حدیثوں کا مجموعی مطالعہ کرنے کے بعد رائے بنائی جائے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ افضل الجہاد کلمہ حق عند سلطان جائر۔ اگر کوئی شخص اس حدیث کو لے کر یہ کرے کہ جہاں کہیں اُس کو کوئی بات حق اور عدل کے خلاف دکھائی دے وہاں وہ فوراً اُس کے رد میں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے تو یہ حدیث کی تعمیل نہ ہوگی۔ کیوں کہ ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ: من صمت نجا۔ دونوں حدیثوں کو ملا کر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کہیں بولنا مطلوب ہوتا ہے تو کہیں یہ مطلوب ہوتا ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page