مطالعۂ حدیث
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۰
۴- کبھی کسی حدیث میں ایک بات حکم جیسے الفاظ میں آتی ہے۔ حالاں کہ اُس سے صرف زجر و توبیخ مقصود ہوتی ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ جو لوگ جماعت کی نماز ترک کرتے ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ میں اُن کے گھروں میں آگ لگا دوں ۔ یہ الفاظ ز جروتوبیخ کے لیے ہیں، اُن کو لفظی معنوں میں لینا درست نہیں۔
۵- احادیث کے مطالعہ کے دوران یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ بہت سے مسائل میں احادیث کے درمیان اختلاف ہے۔ مثلاً نماز کے طریقوں کے بارے میں ۔ ان اختلافی احادیث کی بنیاد پر کافی بحثیں جاری رہی ہیں۔ کوئی ایک روایت کو افضل قرار دیتا ہے اور دوسری کو غیر افضل ، کوئی ایک روایت کو راجح قرار دیتا ہے اور دوسری روایت کو مرجوح ۔ راقم الحروف کے نزدیک اس مسئلہ کا زیادہ بہتر حل وہ ہے جس کو ابن عبدالبر نے اپنی کتاب بیان فضائل العلم و أهله میں بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق، ان اختلافات کا فکری حل یہ ہے کہ اُن کو تنوع اور توسع پر محمول کیا جائے ۔ یعنی ایک اور دوسرے کے درمیان ترجیح تلاش کرنے کے بجائے دونوں ہی کو یکساں طور پر درست مان لیا جائے ۔ یعنی یہ کرو تب بھی ٹھیک ہے اور وہ کرو تب بھی ٹھیک ۔ ان اختلافات کو تنوع کا مظہر قرار دینے کی صورت میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اختلاف بحث وگفتگو کا موضوع نہیں رہتا۔ اور ذہن زیادہ اہم مفاہیم پر مرتکز ہو جاتا ہے۔
۶- حدیث کے مطالعہ میں عام طور پر علماء کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ سند کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اُصولی طور پر یہ بات درست ہے مگر کسی بھی چیز میں غلو نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کسی حدیث کی بنیاد پر کوئی حکم یا حجت قائم کرنا ہو تو اُس وقت سختی کے ساتھ سند کو اہمیت دینا چاہئے۔ لیکن جب کوئی ایسی حدیث سامنے آئے جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے قرآن سے متعارض نہ ہو اور اْس سے نصیحت اور تذکیر حاصل ہوتی ہو تو ایسی حدیث کو قبول کرنے میں میرے نزدیک کوئی حرج نہیں۔
۷۔ تاہم فضائل کی روایات کے بارے میں میرا نقطہ نظر کسی قدر مختلف ہے۔ فضائل کی