مطالعۂ حدیث
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۱
روایتیں زیادہ تر یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔ ان روایتوں کی ایک مشترک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ظواہر اعمال کے فضائل پر ہوتی ہیں۔ مثلاً فضائل کی روایتوں میں فضائل تلاوت تو ملے گی مگر فضائل تدبر نہیں ملے گا۔ اسی طرح اُن میں فضائل عبادت تو ہوگا مگر فضائل خشوع نہیں ہوگا۔ اُن میں فضائل قربانی تو ہوگا مگر فضائل تقویٰ نہیں ہوگا۔ اس بنا پر فضائل کی روایتوں سے یہ ذہن بنتا ہے کہ ظواہر اعمال ہی کا نام عبادت ہے۔ حالاں کہ اصل عبادت وہ ہے جو داخلی اسپرٹ سے تعلق رکھتی ہے، جس کو قرآن میں خشوع، خضوع، اخبات ، تقویٰ، وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
۔ ۸ کوئی حدیث بظاہر ایک مخصوص معنی میں ہوتی ہے۔ اگر اس حدیث کو لفظی طور پر لیا جائے تو وہ ایک خاص حکم تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ حالانکہ پیغمبر اسلام کی نبوت جب عالمی ہے تو آپ کے کلام میں بھی عالمی پہلو ہونا چاہئے ۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ کسی حدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کو وسیع تر سیاق (broader context) میں رکھ کر دیکھا جائے۔
مثال کے طور پر روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَابَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ (ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں اور اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں اور اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں)۔
اس حدیث میں بظاہر تین مذہبی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مگر وسیع تر پہلو سے دیکھا جائے تو یہ حدیث ایک نہایت اہم حقیقت کو بتاتی ہے ۔ وہ یہ کہ ہر آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک بچہ ہوتا ہے جس کے اندر خود صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ بچپن اور نو جوانی کی پوری عمر وہ اسی نا پختہ ذہن کے ساتھ کسی ماحول میں گزارتا ہے۔ یہ ماحول مسلسل طور پر اس کے ذہن کی کنڈیشننگ(conditioning) (conditioning) کرتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ انسان بن جاتا ہے۔ ذہن کی کنڈیشننگ کایہ معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے، کسی بھی مرد یا عورت کا اس میں کوئی استثناء نہیں۔