مطالعۂ حدیث
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۲
ایسی حالت میں ہر انسان کی یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرے۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر چڑھی ہوئی مصنوعی تہوں کو ہٹائے تاکہ وہ حقیقتوں کو اسی فطری ذہن کے ساتھ دیکھے اور سمجھے جو خالق حقیقی کی طرف سے اس کو پیدائشی طور پر دیا گیا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہ عمل ہر ایک کو کرنا ہے۔ اس عمل کے بغیر کوئی بھی شخص صحیح الفکر (right thinker) نہیں بن سکتا۔
ڈی کنڈیشننگ کایہ عمل بے حد سنجیدہ عمل ہے۔ اس میں ہر مرد اور عورت کو خود اپنے ذہن کی سرجری کرنی پڑتی ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان خیالات کو نکالنا پڑتا ہے جو ماحول کے اثر سے اس کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نا پختہ عمر میں ہونے والی یہ کنڈیشننگ ہر آدمی کے ذہن کو افکار کا ایک جنگل بنا دیتی ہے۔ اس فکری جنگل کو صاف کرنے کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہ تطہیر صرف اس وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ آدمی بے رحمانہ طور پر اپنے ذہن کا فکری آپریشن کرنے کے لیے تیار ہو۔
۹۔ حدیثوں کے مطالعہ میں ایک مزاج یہ بن گیا ہے کہ ان سے بس جزئی مسائل اخذ کئے جاتے ہیں۔ کلی مسائل پر ان کو چسپاں نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اس قسم کا ذہن حدیث کی معنویت کو گھٹانے کے ہم معنی ہے۔ اس ذہن کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں نے جزئی مسائل میں تو حدیث سے رہنمائی حاصل کی مگر وہ زیادہ اہم مسائل میں حدیث سے رہنمائی حاصل نہ کر سکے۔
مثلا ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ (آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایسے کام کو چھوڑ دے جس میں کوئی فائدہ نہیں)۔ اس حدیث سے عام طور پر صرف کچھ چھوٹے چھوٹے مسئلے نکالے جاتے ہیں۔ مثلا کسی دینی مجلس میں بیٹھ کر ایک آدمی کسی تنکے سے کھیلے تو کہا جائے گا کہ یہ ایک بے فائدہ کام ہے، اس کو نہ کرو۔ مگر اس قسم کی تشریح اصل حدیث کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے زندگی کے تمام معاملات کے لیے ایک نہایت اہم رہنمائی حاصل