Al-Risala · May 2004 · page 13

مطالعۂ حدیث

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۳

ہوتی ہے۔ اس حدیث سے یہ جامع اصول ملتا ہے کہ ہمارا اقدام ہمیشہ نتیجہ رخی (result oriented) ہونا چاہئے۔ کوئی ملی منصوبہ بنایا جائے تو سب سے پہلے یہ غور کیا جائے کہ یہ منصوبہ نتیجہ کے اعتبار سے مفید ہوگا یا نہیں۔ کسی سے شکایت ہو جائے اور اس کے خلاف لڑائی چھیڑنا ہو تو یہ اندازہ کیا جائے کہ لڑائی کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گیا یا نہیں۔ کسی مقام پر کوئی سیاسی پروگرام بنایا جائے تو پیشگی طور پر اچھی طرح جائزہ لیا جائے کہ یہ پروگرام برعکس نتیجہ کا سبب تو نہیں بن جائے گا، وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی اقدام کا بے نتیجہ ثابت ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کی زد آدمی کے ایمان و اسلام تک جاتی ہے۔ سچا ایمان آدمی کے اندر گہری سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ سچا اسلام آدمی کو آخری حد تک محتاط بنا دیتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ ایمان و اسلام والا آدمی ایسا اقدام کرے جو نتیجہ کے اعتبار سے الٹا (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔ ۱۰۔ جیسا کہ معلوم ہے حدیث کی تدوین عباسی خلافت کے دور میں ہوئی۔ اسی زمانہ میں فقہ کی تدوین بھی ہو رہی تھی۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ حدیث کا مطالعہ فقہ کی روشنی میں کیا جانے لگا۔ یہ سلسلہ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ حدیث کے مطالعہ کا ایک معلوم فریم ورک بن گیا اور وہ فقہی فریم ورک تھا۔ مزید یہ کہ مختلف اسباب سے خود فقہ کا مطالعہ زیادہ تر جزئی مسائل یا جزئیات شریعت تک محدود ہو گیا۔

اس کا اثر حدیث کے مطالعہ پر بھی پڑا۔ اس کی مثالیں حدیث کی شرحوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ بعد کے زمانہ میں جتنی بھی شرحیں لکھی گئیں تقریباً ہر ایک میں شرح کا وہ انداز غالب آگیا جس میں صرف دو چیزیں شارح کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ حدیث کی فنی حیثیت پر بحث، یا اس کے فقہی پہلوؤں کی وضاحت جن کا تعلق زیادہ تر شریعت کے وقتی یا جزئی پہلوؤں سے تھا۔ حدیث کے اس رواجِ طرز مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حدیث کی آفاقی معنویت گم ہوگئی۔ حدیث میں ابدی رہنمائی کا جو پہلو تھا وہ امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گیا۔ اس معاملہ کی مثالیں بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں میں بھری ہوئی ہیں۔ یہاں میں اس کی وضاحت کے لیے ایک تازہ مثال درج کرتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page