Al-Risala · May 2004 · page 14

مطالعۂ حدیث

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۴

سویڈن شمالی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہاں کا موسم ہمیشہ غیر معتدل رہتا ہے۔ کبھی رات بہت چھوٹی اور دن بہت لمبا اور کبھی دن بہت چھوٹا اور رات بہت لمبی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دن اور رات میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ سویڈن میں کافی مسلمان آکرکے نماز آباد ہو گئے ہیں۔ ان کے سامنے یہ سوال ہے کہ یہاں کے علاقہ میں پانچ وقت کس نماز کی طرح پڑھی جائے۔ تقلیدی علماء کا اصرار ہے کہ یہاں بھی اسی طرح سورج کے اعتبار سے نماز ادا کی جائے گی جس طرح دنیا کے دوسرے علاقوں میں کی جاتی ہے۔ مگر سویڈن میں مقیم مسلمانوں کے لیے یہ بے حد دشوار گزار ہے، بلکہ تقریبا نا قابل عمل ہے۔ سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہام میں عربوں کے تعاون سے ایک بہت بڑا اسلامک سنٹر اور مسجد کی تعمیر کی گئی ہے۔ جون ۲۰۰۳ میں یہاں مسلمانوں کا ایک بڑا جلسہ ہوا۔ اس میں عرب کے ایک عالم ڈاکٹر یوسف القرضاوی مہمان خصوصی کے طور پر بلائے گئے۔

عرب عالم کے سامنے نماز کے اوقات کا مسئلہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس کا حل یہ بتایا کہ آپ لوگ ایسا کریں کہ معتدل علاقوں کا اعتبار کرتے ہوئے گھڑی کے لحاظ سے نماز کے اوقات مقرر کر لیں۔ یعنی سورج کا اعتبار نہ کر کے گھڑی کا اعتبار کرنا۔ اپنے اس فتویٰ کی تائید میں انہوں نے ایک حدیث پیش کی۔

صحیح البخاری میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے اور آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے (ماخیر رسول اللہ ﷺ بین امرین الا اختار ایسرھما)۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن کے حالات میں سورج کا اعتبار کر کے اوقات مقرر کرنا مشکل ہے۔ اس کے برعکس گھڑی کا اعتبار کر کے اوقات کو مقرر کرنا آسان ہے اس لیے حدیث کے مطابق آپ کو یہ کرنا چاہئے کہ گھڑی کا اعتبار کر کے نماز کے اوقات مقرر کریں۔ اس اصول کو انہوں نے تیسیرالفتویٰ کانام دیا۔ یعنی فتویٰ میں آسانی کا طریقہ اختیار کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page