مطالعۂ حدیث
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۵
عرب عالم کا یہ فتویٰ بلاشبہ درست ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی (اور دوسرے علماء) اس شرعی اصول کو فلسطین اور دوسرے مقامات پر ہونے والے متشددانہ جہاد پر منطبق نہ کر سکے۔ اس دوسرے معاملہ میں ان علماء نے تقریباً متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیا کہ موجودہ مسلح جہاد عین اسلامی جہاد ہے۔ اور اس میں مرنے والے لوگ شہید کا درجہ پا رہے ہیں۔ حتی کہ خودکش بمباری (suicide bombing) کو بھی انہوں نے اسلامی جہاد بتایا، حالانکہ صحیح البخاری کی مذکورہ روایت کی روشنی میں تیسیر الفتویٰ کا جو اصول انہوں نے وضع کیا ہے اس کی روشنی میں اگر وہ ان جہادی سرگرمیوں کو دیکھتے تو ان کا فتویٰ بالکل مختلف ہوتا۔ اب وہ کہتے کہ ان مجاہدین کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب (choice) کا معاملہ ہے۔ یعنی پرامن طریقِ کار (peaceful method) اور متشددانہ طریقِ کار (violent method)۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ عمومی پالیسی کے مطابق موجودہ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ آسان طریقِ کار کو اختیار کریں۔ یعنی متشددانہ طریقِ کار کو چھوڑ دینا اور پرامن طریقِ کار پر کار بند ہو جانا۔ مگر روایتی فقہی فریم ورک کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ حدیث اور سنت میں موجودہ زمانہ کے لیے نہایت کامیاب رہنمائی موجود تھی۔ مگر ہمارے علماء کا ذہن روایتی فقہی فریم ورک میں اٹکارہا۔ اس کا یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ وہ حدیث کی آفاقی معنویت کو دریافت نہ کر سکے، وہ امت کو جدید حالات کے لحاظ سے صحیح شرعی رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔
مذکورہ محدود ذہنی نقشہ کی بنا پر ایسا ہوا کہ ان علماء نے نماز کے طریقہ کو متعین کرنے کے بارے میں تیسیر الفتویٰ کے اصول کو اختیار کیا، مگر جہاد کے طریقہ کو متعین کرنے کے بارہ میں، برعکس طور پر، تعسیر الفتویٰ کا اصول۔ اس فرق کے نتیجہ میں امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو نقصانات پہنچے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔