مطالعۂ حدیث
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۶
سوال
1995 میں قاہرہ کی ایک ایسی مجلس میں، جس میں کچھ لوگوں کو پہلے فیصل ایوارڈ مل چکا تھا، بولنے کا موقع دیا گیا تھا، ان میں سے ایک علی عزت بیگوویچ، بوسنیا کے صدر بھی تھے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں۔ جو چھپا نہیں گیا۔ آخر میں ایک بات کہی تھی کہ میرے ذہن میں چار سوال ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ جوان سوالوں کا تسلی بخش جواب دے، اس کو ’’خدمت اسلام‘‘ کا ’’فیصل ایوارڈ‘‘ ملے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ہماری امت جس کو اللہ نے مخاطب کیا تو اس کا پہلا لفظ تھا اقرا۔ آج ساڑھے چودہ سو سال گزر جانے کے بعد اس کی پچاس فیصد سے زیادہ تعداد پڑھنے سے قاصر کیوں ہے۔ ہم دنیا میں سب سے جاہل کیوں ہیں جب کہ ہم سے پہلی وحی میں کہا گیا تھا کہ ’’پڑھ‘‘۔ دوسری بات یہ کہ اسلام میں وقت کی پابندی پر بڑا زور ہے۔ نماز کا وقت مقرر، حج کی تاریخ مقرر، روزے کا مہینہ مقرر، زکوٰۃ سال گزر جانے پر، ہر چیز کا وقت مقرر ہے لیکن دنیا میں سب سے زیادہ کم، وقت کی پابندی ہم کرتے ہیں۔ آج تک مجھے نہیں معلوم کہ مسلمانوں کا کوئی جلسہ وقت پر شروع ہوا ہو۔ تیسری بات انہوں نے یہ کہی کہ طہارت، اس دین میں بہت اہم ہے۔ اس کی نماز، اس کا روزہ، اس کی ہر عبادت میں پاکیزگی اور صفائی ستھرائی پر زور ہے، مگر دنیا کے کسی بھی مسلم محلے میں جائیے، ایشیا کے کسی ملک میں، افریقہ میں، مغربی ممالک میں مسلمان آبادیوں میں کہیں بھی چلے جائیے۔ سب سے گندے، مسلمانوں کے محلے ہیں۔ کاغذ کہیں بھی پھینک دیں گے، چھلکا کہیں بھی ڈال دیں گے۔ ‘‘ اور آخری چیز انہوں نے یہ کہی کہ ’’وہ امت جو کلمہ توحید پر قائم ہے اور ایک خدا کے تصور کو، ساری انسانیت کو ایک لڑی میں پرونے والی چیز سمجھتی ہے۔ یہ کیا بات ہے کہ یہ امت دن بہ دن مزید گروہوں میں بٹتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں بھی چلے جایئے، وقت گزرنے کے ساتھ گروہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ حلقے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک جماعت سے دو جماعت، دو سے چار جماعتیں، ایک حلقے سے دو حلقے بنتے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چار سوال مجھے بہت پریشان کرتے ہیں۔ یہ ناخواندگی، یہ وقت کی عدم پابندی، یہ عدم صفائی، یہ انتشار، یہ کہاں سے اس قوم میں آگئے (ماہنامہ زندگی نو، جون ۲۰۰۳، صفحہ ۳۰)۔ ماہنامہ الرسالہ کے