مطالعۂ حدیث
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۷
ایک قاری نے یہ اقتباس بھیج کر گذارش کی ہے کہ اس کا جواب الرسالہ کے صفحات میں دیا جائے۔ جواب اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کا کیس وہ ہے جس کو قرآن میں طول امد کے بعد قساوت کا آجانا (الحدید ۱۶) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے زوال (de-generation) کی آخری حد پر ہیں، اور مذکورہ چاروں خرابیاں اسی زوال کے مظاہر ہیں۔ اقبال اپنے ابتدائی زمانہ میں اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ اس لیے انہوں نے موجودہ مسلمانوں کے بارہ میں یہ شعر کہا: ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی مگر بعد کو اقبال نے دیکھا کہ اس مٹی کو نہ صرف نم کیا گیا بلکہ اُس کو پانی سے جُل تھل کر دیا گیا۔ اس سیرابی کے عمل میں اقبال سمیت بہت سے علماء اور مفکرین شامل ہیں۔ مگر ساری کوششوں کے باوجود امت کے اندر مطلوب بیداری نہ آسکی۔ چنانچہ بعد کے دور میں اقبال کو یہ کہنا پڑا: تیرے محیط میں کہیں جو ہر زندگی نہیں ڈھونڈھ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف عزت بیگوویچ نے بوسنیا میں آزاد مسلم اسٹیٹ قائم کرنے کا اقدام کیا جو بوسنیا کے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہ دے سکا۔ اقبال نے پاکستان کے نام سے علیحدہ اسلامی ملک بنانا چاہا مگر یہ تجربہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ اسی طرح بیسویں صدی میں تقریباً ہر مسلم رہنما نے کسی نہ کسی خوش نما اقدام سے اپنے عمل کا آغاز کیا اور ہر ایک کا اقدام بے نتیجہ ثابت ہوا۔
قرآن کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کسی قوم پر زوال آجائے تو اُس کے اندر اسلامی عمل کا آغاز تزکیہ اور تربیت سے ہوگا، نہ کہ اقدام سے (الحدید ۱۷)۔ پہلے خاموش اور پرامن فکری عمل کے ذریعہ قوم بنائی جائے گی اور اُس کے بعد عملی اقدام کیا جائے گا، ٹھیک اُسی طرح جیسے کوئی زمین بنجر ہو تو کسان اپنے زرعی عمل کا آغاز مٹی کی درستگی سے کرتا ہے، نہ کہ فصل اگانے سے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین (بشمول عزت بیگوویچ) کا حال یہ ہے کہ انہوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ قوم بنانے سے پہلے عملی اقدام شروع کر دیا جو قانون فطرت کے مطابق، سراسر بے نتیجہ رہا۔