Al-Risala · May 2004 · page 18

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۸

یہ معکوس نتیجہ سامنے آنے کے بعد ان حضرات کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں، نہ کہ وہ دوسروں سے اسی کے بارے میں سوال کریں۔ اگر یہ مسلم رہنما اپنی غلطی کا اعلان کریں تو اس کا کم از کم یہ فائدہ ہوگا کہ اُن کے بعد کے لوگ اس سے سبق لیں گے اور وہ دوبارہ اس غلطی کو نہ دہرائیں گے۔ اس کے برعکس اگر یہ حضرات اپنی غلطی کا اعلان نہ کریں تو یہ غلطی (شعوری تعمیر سے پہلے سیاسی اور عملی اقدام) آئندہ بھی بدستور جاری رہے گی اور امت کبھی اس تباہ کن طریق کار کو چھوڑ کر دوسرا صحیح طریقہ اپنا سکے گی۔

سوال

۳۰ مئی ۲۰۰۳ کی شام کو میں آپ کی مجلس میں تھا۔ دونوجوان جو کسی دفتر میں سروس کرتے ہیں ان کو مشورہ دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ آپ لوگ سمجھوتہ کر کے اور ایڈجسٹ کر کے اپنے آفس میں رہیں ۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے اس مشہور مقولہ کو دہرایا:

Boss is always right

مگر اس کے ساتھ آپ نے اپنے بارہ میں کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی سمجھوتہ فہمیں کیا۔ میں نے ہمیشہ غیر مصالحتی انداز (uncompromising attitude) اختیار کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دو عملی نہیں۔ آپ خود تو سمجھوتہ نہیں کرتے مگر دوسروں کو سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کیا یہ اس آیت کا مصداق نہیں کہ لِمَ تقولون مالا تفعلون ۔ (امام بٹ، نئی دہلی)

جواب

آپ کا یہ سوال ایک غلط فہمی پرمبنی ہے۔ اور اس غلط نہی کا سبب یہ ہے کہ آپ تمیز (differentiation) کے اصول کو سمجھ نہ سکے۔ یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا۔ یہ تمیز و تفریق معاملہ فہمی کی شرط لازم ہے۔

اصل یہ ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیت منافقانہ پالیسی کے بارے میں ہے۔ مثلاً ایک آدمی جہاد کی باتیں کرکے دوسروں کو لڑنے پر اکسائے مگر وہ اپنے آپ کو لڑائی سے دور رکھے۔ اس روش کا نام دو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page