Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۱۹
عملی (duplicity) کی پالیسی ہے۔ مگر جو بات میں نے کہی اس کا تعلق انسانی خیرخواہی سے ہے۔ یہی طریقہ اسلام کی روح کے مطابق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عام پالیسی یہ تھی کہ آپ خود تو ہمیشہ عزیمت کا طریقہ اختیار فرماتے تھے مگر دوسروں کو یسر (آسانی) کے طریقہ کی تلقین کرتے تھے۔ مثلاً آپ رمضان کے مہینہ کے علاوہ کثرت سے روزے رکھتے تھے مگر دوسروں کو آپ نے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ تم اس کا تحمل نہیں کر سکتے۔ خود عزیمت پر قائم ہونا اور دوسروں کو رخصت کا مشورہ دینا منافقت نہیں ہے بلکہ یہ خیرخواہی ہے۔ اور یہی تمام صالحین کا طریقہ رہا ہے۔
سوال
میں آپ کا الرسالہ ۲۵ سال کی عمر سے پڑھتا رہا ہوں۔ اندر ہی اندر آپ کا عقیدت مند ہوں ۔ آپ کا مطالعہ کرتا ہوں تو ذہنی تشنگی دور ہوتی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے شب و روز کی تکالیف اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت ملتی ہے، ایک سکون ملتا ہے۔ اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہنے کی تگ و دو ملتی ہے۔ براہ کرم مجھے اپنے مزید مشوروں سے نوازیں (شبیر بیگ، کرناٹک) جواب یاد رکھیے کہ زندگی ایک آرٹ ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی کانٹوں سے بچتے ہوئے پھولوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کانٹوں سے اُلجھنے والا آدمی خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ اُس کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ پھول کو پانے سے محروم رہ جائے۔ سوال گذشتہ چند ماہ سے ہم اپنے حلقہ احباب میں آپ کی تصنیف تذکیر القرآن کا اجتماعی مطالعہ کر رہے ہیں۔ الحمد للہ اُس کے بڑے اچھے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ چند حضرات جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں وہ ہمارے اس عمل کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ بلکہ ہمیں مطالعہ قرآن سے روکنے کے لیے وہ غیر اخلاقی حرکتیں بھی کر رہے ہیں۔ ان حضرات کا اصرار ہے کہ صرف اور صرف ”فضائل اعمال“ کا ہی اجتماعی مطالعہ ہونا چاہیے۔ یہی کتاب فی زمانہ ہدایت کا بہترین ذریعہ ہے۔ رہا