Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۰
قرآن تو یہ بہت بلند کتاب ہے اور یہ عام مسلمان کے لیے نہیں ہے۔ اسے وہ علماء ہی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں جو کئی علوم سے واقف ہوں۔ براہ کرم اس الجھن کو دور فرمائیں۔ (حبیب اشرف) جواب پچھلے سو برس کے اندر مسلمانوں میں دو چیزیں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ ایک، اقبال کا شاعرانہ کلام۔ اور دوسرے، تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال۔ دونوں بظاہر مختلف ہیں۔ مگر اُن کی مقبولیت کا سبب ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ زوال یافتہ قوم کو اس قسم کی چیزیں بہت اپیل کرتی ہیں۔ زوال یافتہ قوم کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ حقیقی عمل کے بجائے خیالی پروازوں کو پسند کرنے لگتی ہے۔ مثلاً اقبال کے کلام میں مسلمان یہ پڑھ کر جھوم اُٹھتے ہیں کہ:
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے اسی طرح مسلمان جب فضائل کی کہانیوں میں پڑھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے ظاہری اعمال پر جنت الفردوس مل رہی ہے تو اپنے زوال یافتہ مزاج کی بنا پر وہ تیزی سے اُس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ سب دن کیے پر کریڈٹ لینا ہے اور زوال یافتہ قوموں کی یہی خاص نفسیات ہوتی ہے، اس میں کوئی استثناء نہیں۔
سوال
ایک حافظ صاحب میرے شہر میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ مولانا وحید الدین خان ہر ایک جماعت سے نکالے جا چکے ہیں۔ مثلاً جماعت اسلامی کو چھوڑ کر وہ پیام انسانیت لکھنؤ گئے، اس کو چھوڑ کر تبلیغی جماعت میں گئے، تبلیغی جماعت کو چھوڑ کر جمعیۃ العلماء ہند میں گئے اور پھر اس کو چھوڑ کر الرسالہ پر قبضہ کر لیا۔ جب کہ حدیث میں ہے کہ گلے سے نکلی ہوئی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت کریں کہ آپ کیوں ایک جگہ سے دوسری جگہ گئے۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)