Al-Risala · May 2004 · page 21

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۱

جواب

آپ نے جو سوال تحریر فرمایا ہے، سب سے پہلے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ یہ سوال درست ہے۔ یعنی یہ کہ مجھ کو فلاں جماعت یا ادارہ سے نکالا گیا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ آپ ان تمام جماعت یا اداروں کو خط لکھیں اور اُن سے پوچھیں کہ کیا واقعتا مجھ کو ان جماعتوں یا اداروں سے نکالا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ان جماعت کے ذمہ داروں کا تحریری جواب حاصل کر کے بھیجیں، اس کے بعد میں آپ کے سوال کی وضاحت کروں گا۔ ابھی تو خود یہ سوال غیر ثابت شدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے کبھی کسی جماعت سے نکالا نہیں گیا۔

میرا کہنا یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی بات ہے کہ مجھے کسی جماعت سے نکالا گیا۔ آپ یا مذکورہ حافظ اس سلسلہ میں متعلقہ جماعتوں کا تحریری جواب حاصل کریں تو اُس کے بعد میں ضرور اس کی وضاحت کروں گا۔ مذکورہ حافظ صاحب اس معاملہ میں پارٹی نہیں ہیں۔ اس معاملہ میں پارٹی یا تو میں ہوں یا مذکورہ جماعتیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے ، میرا کہنا یہ ہے کہ نکالے جانے کا افسانہ ایک جھوٹا افسانہ ہے۔ اب دوسری بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں مذکورہ پارٹیوں کا تحریری بیان آپ کے پاس یا حافظ صاحب کے پاس ہو۔ ایسے بیان کی غیر موجودگی میں میرے خلاف مذکورہ پروپیگنڈہ ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے جس کی کوئی اصل حقیقت موجود نہیں۔

سوال

ایک مفتی صاحب سے میں نے بینک کے سود کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود نہیں ہے کیوں کہ ہم بینک والوں سے مطالبہ نہیں کرتے ہیں کہ آپ ہمارے روپے پر اتنا منافع دو۔ وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ اپنی مرضی اور قانون کے حساب سے منافع دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ حکومت اسلامی نہیں۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں سود کی حلت وحرمت کے بارے میں ہمیں آگاہ کریں۔ (محمد عباس) جواب آپ کے مذکورہ سوال کا جواب علماء اسلام بار بار دے چکے ہیں۔ اب آپ کے لئے یہ کوئی صحیح

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page