Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۲
شکل نہیں ہے کہ اس سوال کو دوسرے علماء سے آپ بار بار پوچھیں ۔ اس قسم کے سوال وجواب سے حدیث میں سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے ۔
اب آپ کے لئے دو میں سے ایک صورت ہے۔ یا تو آپ علماء کی طرف سے دیئے ہوئے جوابات کو لے کر ان پر عمل کریں اور اگر آپ ان پر مطمئن نہیں ہیں تو آپ کے لئے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھ کر خود اپنے دل سے پوچھیں کہ کون سی روش میرے لئے درست ہو سکتی ہے اور جو مجھے خدا کی پکڑ سے بچانے والی ہے۔ اس طرح کے احساس کے ساتھ خدا کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے جو جواب آپ کو سمجھ میں آئے اس پر عمل فرمائیں اور اس کے بعد پھر کسی سے نہ پوچھیں۔ صرف خدا سے یہ دعا کرتے رہیں کہ وہ آخرت میں آپ کو اپنی غلطی کے لئے معاف کرے۔
سوال
میں الرسالہ کا ایک مستقل قاری ہوں۔ الرسالہ مشن کے علاوہ تصوف، یعنی اسلامی تصوف سے متعلق کتب کا مطالعہ بھی جاری ہے۔ آپ نے مئی ۲۰۰۳ کے رسالے میں صفحہ ۵ پر تصوف کو یوگا سے مشابہت دی ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مہربانی کر کے وضاحت فرمادیں۔ واضح رہے کہ میں آپ کو ایک بڑا اچھا صوفی سمجھتا ہوں۔ الجھن دور فرمادیں ( جاوید حسین وانی، اننت ناگ ، کشمیر) جواب میں ایک پیدائشی صوفی ہوں۔ مگر میرا صوفی ازم مروجہ تصوف سے الگ ہے۔ میں قرآن کے الفاظ میں الربانیہ پر یقین رکھتا ہوں۔ یعنی آدمی کے فکر اور جذبات کا رخ مکمل طور پر خدا کی طرف ہو جانا۔ خدا کے ساتھ حب شدید اور خوف شدید کا تعلق پیدا ہو جانا۔ خدا کے ساتھ روحانی طور پر کامل وابستگی ہو جانا۔ حدیث کے الفاظ میں تعبد اللہ کانک تراہ کے درجہ کو پالینا۔
جہاں تک رواجى تصوف کا تعلق ہے وہ قرآن کے الفاظ میں، مضاہات ہے۔ حقیقی تصوف داخلی اسپرٹ پر قائم ہوتا ہے۔ جب کہ رواجى تصوف سارا کا سارا ظاہری فارم پر مبنی ہے۔ اس میں خارجی