Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۳
عضو یاتی مشقوں کو داخلی روحانی ارتقاء کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ میرے نزدیک بالکل بے بنیاد ہے۔ میرے نزدیک متصوفانہ اعمال و اشغال کا حقیقی روحانی ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں۔ سوال میری ازدواجی زندگی میں شریک حیات کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی۔ اس سلسلہ میں میرے دماغ میں مختلف سوالات گونج رہے ہیں۔ میری شریک حیات صحت خراب ہونے کی وجہ سے میری اجازت کے بغیر اپنے گھر چلی گئی۔ ایک دن بعد پتہ چلا کہ خدا نے ہمیں اولاد عطا کیا ہے۔ چار ماہ بعد اس نے مجھ کو یہ جواب دیا کہ میں الگ سکونت اختیار کرلوں گی کیونکہ آپ کے گھر والوں سے میری بنتی نہیں۔ وہ الگ سکونت اختیار کرنے کی ضد پر قائم ہے جب کہ میری رائے اس سے مختلف ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے کیا کرنا چاہئے (ایک قاری الرسالہ، کشمیر)
جواب
جو مسئلہ آپ نے تحریر فرمایا ہے وہ تقریبا ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ باتیں عرض ہیں۔
۱۔ ساس اور بہو کا جھگڑا کبھی دو طرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتا وہ ہمیشہ یک طرفہ بنیاد پر حل ہوتا ہے۔ یعنی یا تو ساس یک طرفہ طور پر سمجھوتہ کرے یا بہو یک طرفہ طور پر سمجھوتہ کرے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ بہو کو اس کے نادان ماں باپ یک طرفہ سمجھوتہ کرنے نہیں دیتے۔ اسی طرح ساس کو اس کا نادان بیٹا یک طرفہ سمجھوتہ پر راضی نہیں کر پاتا۔ اس بنا پر وہ مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا۔ ۲۔ اس مسئلہ کا پائیدار حل صرف یہ ہے کہ آدمی اس وقت شادی کرے جب کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ الگ مکان میں رہنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ جب تک یہ استطاعت نہ ہو وہ انتظار کرے۔ ۳۔ موجودہ حالات میں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو اس کے میکے میں رہنے دیں۔ آپ خود وہاں کبھی کبھی جائیں مگر بیوی کو اپنے گھر لانے کی کوشش نہ کریں۔ فی الحال آپ یہی کریں اور مزید کے لیے مستقبل کا انتظار کریں۔