Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۵
پہلے زمانہ میں کچھ لوگ ہوتے تھے جن کو قصہ گو یا قصاص (Storytellers) کہا جاتا تھا۔ اس قسم کے لوگ ہر زبان میں ہوتے تھے اور اسی طرح عربی زبان میں بھی عرب قصاص کی باتوں کو لوگوں نے کتابوں میں جمع کر لیا اور اس کو حدیث سمجھ کر دہرانے لگے۔ موجودہ زمانہ میں بعض جماعتیں اسی قسم کی بے بنیاد قصہ کہانیوں پر کھڑی ہوئی ہیں۔ عوام چونکہ طلسماتی کہانیوں سے دلچسپی لیتے ہیں اس لئے ان جماعتوں کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ عوام کی یہ بھیڑ ان کے لئے بظاہر ایک سند بن گئی۔ اس قسم کی کہانیاں جو لاکھوں کی تعداد میں عوام کے درمیان پھیلی ہوئی ہیں وہ سب باطل ہیں۔ وہ دین حق پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہیں۔ پڑوسی کا حق بلاشبہ نہایت اہم ہے۔ اسلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ مگر پڑوسی کے حق کا تعین گنتی اور میٹر سے ناپ کر طے نہیں کیا جائے گا۔ پڑوسی کے حق کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو پڑوسی تمہارے رابطہ (contact) میں آئے، خواہ وہ مقامی ہو یا غیر مقامی ، اس کا حق ادا کرو۔ یا کم از کم یہ کرو کہ اس کے لئے حدیث کی زبان میں کوئی بافقہ (شر) پیدا نہ کرو۔
یاد رکھیے، وہی بات اسلام کی بات ہے جو قرآن سے ثابت ہو یا اصول حدیث کے مطابق صحیح روایات سے ثابت ہو۔ ان دو کے سوا کوئی بھی تیسرا مستند ذریعہ نہیں۔ مثلاً مفروضہ اکابر کے اقوال، فضائل کی کہانیاں، خواب اور مکاشفہ، کراماتی داستانیں، یہ سب بے اصل ہیں۔ ان چیزوں میں مشغول ہونا ایک گناہ ہے، نہ کہ کوئی ثواب کا کام۔
سوال
میرے ایک ہم پیشہ کا قول ہے ”نومسلم سید کی برابری کب کر سکتا ہے۔ یہ صاحب خود سید ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس جملے میں توہین رسالت شامل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ کے والدین مسلمان نہ تھے۔ آپ کے خیال میں کیا سیدی کا یہ انداز عام لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ جواب بہت سے سوالات کا سادہ جواب یہ ہوتا ہے کہ اُن کو سوال ہی نہ بنایا جائے۔ ہر سوال کا جواب