Al-Risala · May 2004 · page 26

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۶

کا جواب پالے۔

سوال

گذشته ۳۱ اگست ۲۰۰۳ کو ہمارے در بھنگه پارلیمانی حلقه کے نمائنده جناب کیرتی جھا آزاد صاحب (معززایم پی، بی جے پی) علاقه کے دوره پر تھے۔ وه اس موقع پر ہماری بستی اسراہامین بھی تشریف لائے۔ یہاں پر ابوالکلام آزاد لائبریری کے احاطے میں ان کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع کو غنیمت جان کر میں نے ہندی قرآن مجید اور آپ کی کچھ ہندی کتابوں کے ساتھ الرساله ہندی کے کچھ شمارے بھی اس درخواست کے ساتھ دیئے که وه ان کتابوں کا فرصت کے لمحات میں مطالعه کریں۔ انہوں نے مطالعه کرنے کا وعده کیا۔ ہمارے اس اقدام پر علاقه کے کچھ لوگوں نے اس طرح کے اعتراضات کئے که بی جے پی کے آدمی کو جو غیر مسلم بھی ہے، قرآن مجید دینا ٹھیک نہیں... اس موقع پر دوسرا اور کچھ کیا جاتا مگر قرآن مجید نه دیا جاتا وغیره۔ براہ کرم آپ اس کا جواب دیں۔ (نثار اختر، در بھنگه، بہار)

جواب

کسی غیر مسلم کو قرآن کا ترجمه دینا بالکل درست ہے اور وہ عین ثواب کا کام ہے۔ دور اول سے لے کر اب تک بے شمار غیر مسلموں نے قرآن کو پڑھا اور اس سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ موجوده زمانه میں سعودی حکومت لاکھوں کی تعداد میں قرآن چھاپ کر دنیا کے غیر مسلموں میں مفت تقسیم کرتی ہے۔ قرآن کو غیر مسلموں تک پہنچانا بلاشبه دعوت کا کام ہے۔ اس میں اعتراض کی کوئی بھی بات نہیں۔

سوال

اپریل ۲۰۰۳ کے الرساله کے شماره میں ایک سوال کے جواب میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمه اس طرح دیا ہوا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page