Al-Risala · May 2004 · page 27

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۷

" اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ " اسی جواب میں ایک حدیث کے ذریعہ سے یہ نقل کیا گیا ہے:

" یعنی اے علی! جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے خواہ وہ بیماری ہو یا عقوبت ہو یا کوئی دنیوی مصیبت ہو تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے (صفحہ ۲۲)

۱۔ حضرت عمر فاروق پر نماز پڑھتے وقت خنجر کے وار اور اس سے ان کا قتل۔ ۲۔ حضرت عثمان غنی کی محمد بن ابی بکر نے داڑھی پکڑ کر بے عزتی کی۔ قرآن پڑھتے وقت ان پر قاتلانہ حملہ کیا۔ قتل کرنے کے بعد انہیں ٹھوکریں ماریں۔ تین دن تک ان کی لاش بے گور و کفن پڑی رہی۔

۳۔ جنگ جمل میں حضرت عائشہ اور حضرت علی کا جنگ کے لئے ایک دوسرے کے سامنے آنا۔ ۴۔ حضرت علی پر مسجد میں نماز کے لئے آتے وقت قاتلانہ حملہ اور ان کی شہادت۔ ۵۔ حضرت امام حسن کو ان کی بیوی جعدہ بنت الاشعث کا زہر دے کر مارنا۔

۶۔ حضرت امام حسین کا کربلا میں قتل کیا جانا اور ان کا سر جسم سے الگ کرنا۔ یہ سب لوگ پیغمبر کے خاص عزیز اور صحابی تھے۔ ان سے کوئی غلطی کیسے ہو سکتی ہے۔ لیکن ان پر جو مصیبت آئی وہ ان کے کون سے کاموں کا نتیجہ تھا۔ براہ کرم اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (امین الدین، دھول پور، راجستھان)

جواب

اس معاملہ میں یا اور کسی معاملہ میں اصل مسئلہ جواب کا نہیں ہے بلکہ سائل کے مزاج کا ہے۔ آپ کا سوال صحیح مزاج کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ایک واضح آیت سامنے آنے کے بعد صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو بلا شرط مان لیا جائے اور اسی رخ پر سوچنا شروع کیا جائے جو رخ آیت میں دیا گیا ہے۔ اگر سائل کا یہ حال ہو کہ آیت سامنے آنے کے بعد بھی وہ اپنے مزاجی سانچہ کو اس کے مطابق نہ بنائے تو کوئی بھی جواب اس کو مطمئن کرنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page