Al-Risala · May 2004 · page 28

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۸

دوسری بات یہ کہ ایک معاملہ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ جو بات کہی گئی ہے وہ کس پہلو سے کہی گئی ہے۔ مثلاً مذکورہ آیت میں اگر یہ ہے کہ ہر مصیبت کا سبب خود اپنی کوتاہی ہوتی ہے تو دوسرے مقام پر اسی قرآن میں کہا گیا ہے کہ کئی بار کوئی تکلیف آزمائش (ابتلا) کی بنا پر پیش آتی ہے۔ اسی طرح قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موت ہر انسان کے لئے مقدر ہے۔ البتہ کسی کی موت ایک صورت سے پیش آتی ہے اور کسی کی دوسری صورت سے۔

الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ اصلا اس مزاج کی تردید کے لئے ہے کہ اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار کسی مفروضہ دشمن کو قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کیا جائے۔ صحیح قرآنی مزاج یہ ہے کہ ہر مصیبت کے موقع پر احتساب خویش کا ذہن ابھرنا چاہئے، نہ کہ احتساب غیر کا ذہن۔

سوال

۱۵ دن قبل آنجناب کا ایک پروگرام ٹیلی ویژن پر نشر ہورہا تھا جسے اخیر کے چند لمحے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اس نشریے میں آنجناب حجر اسود سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے کہ ”حجر اسود جنت سے آیا ہوا پتھر نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی زمانے میں سفید رہا ہے بلکہ یہ محض قصہ آرائی ہے جو دیگر کہانیوں کی طرح زمانہ قدیم سے رواج پاگئی ہے اور نسل در نسل منتقل ہورہی ہے۔ “ جب کہ معروف حدیث میں بالکل واضح ہے کہ حجر اسود جنت سے اترا تھا۔ اس وقت وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ اس طرح آنجناب کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرما کر شک وشبہات کو دور کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں۔ (مزمل حسن، در بھنگہ، بہار) جواب حجر اسود کے بارہ میں جو روایتیں آپ نے نقل کی ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔ اُن میں سے کوئی بھی قوی اور ثابت شدہ نہیں۔ آپ اس کی تفصیل ابن حجر کی کتاب فتح الباری میں دیکھ سکتے ہیں۔ ملاحظہ ہو کتاب الحج، باب ما ذكر فى الحجر الاسود، جلد ۳، صفحه ۵۲۰-۵۲۱۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page