Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹
سوال
حدیث میں آیا ہے کہ ختم نبوت کے بعد اللہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد بھیجتا رہے۔ کتابوں میں بھی اب تک کے مجدد کی فہرست دیکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام ناموں کے گرد لوگ الگ الگ گروہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس طرح موسی علیہ السلام کے بعد عیسی علیہ السلام کی پیروی لازمی قرار پائی اور ان کے بعد نبی آخر الزماں حضور پاک کی پیروی لازم قرار پائی۔ اسی طرح تمام مسلمانوں پر ان کے صدی کے مجدد کی رہنمائی لازم ہوگی یا پہلے کے کسی مجدد کی باتوں سے رہنمائی لینی ہوگی۔ ایسا دیکھا جاتا ہے کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی جو گروہ جس سے عقیدت رکھتا ہے وہ اسی کی بات آخری سند کے طور پر مانتا ہے جب کہ حالات کی تبدیلی پرانی باتوں کو غیر متعلق بنا دیتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر صدی کے سرے پر تمام ملکوں میں الگ الگ مجدد ہوں گے یا تمام دنیائے اسلام کے لئے ایک ہی مجدد ہوں گے۔ (وسیم اختر، کشن گنج)
جواب
مجدد ایک خدمت ہے، وہ کوئی عہدہ نہیں۔ نیز یہ کہ مجدد نبوت سے بالکل مختلف چیز ہے۔ نبی اپنے کام کا آغاز دعوئی سے کرتا ہے۔ مگر مجدد کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ دعوئی سے اپنے کام کا آغاز کرے حتیٰ کہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ درست نہیں کہ وہ کسی متعین شخص کے بارہ میں یہ یقین کر لیں کہ وہ متعلقہ حدیث کے مطابق خدا کی طرف سے مبعوث ایک مجدد ہے۔ مجدد کے اس تصور کے مطابق، گروہ بندی اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ گروہ بندی کسی شخصیت کو یقینی معنوں میں مجدد کا درجہ دینے سے بنتی ہے۔ اور جب کوئی شخص یقینی طور پر مجدد ہی نہ ہو تو اُس کے نام پر جماعت کیسے بنے گی۔ اس معاملہ کا ایک واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ بعد کے علماء متفقہ طور پر، عمر بن عبدالعزیز کو اسلام کی تاریخ کا پہلا مجدد مانتے ہیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، خود عمر بن عبدالعزیز نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں مجدد ہوں اور نہ عمر بن عبدالعزیز کے ہم عصر علماء نے یہ اعلان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز اس صدی کے مجدد تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تجدید دین ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ یہ اصلا ایک مجتہد کا کام ہے، نہ کہ کسی