Al-Risala · May 2004 · page 30

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

مقلد کا۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ اس لیے اگر کوئی شخص تجدیدی کام کرے تو اُس کے کام بیس صواب اور خطا دونوں کا احتمال رہے گا۔ یہ فیصلہ صرف خدا کرے گا کہ کوئی شخص سچا مجدد تھا یا نہیں ۔ ایسی حالت میں دعویٰ اور اعلان دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں۔ سوال میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ لیکن میں مسلم ملت کے مسائل سے متعلق آپ کے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ ہندوستان میں ہندو۔ مسلم کے ساتھ الگ الگ سلوک کو میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں۔ لیکن افسوس کہ آپ ہمیشہ مسلم قوم کو ہری ہری دکھاتے رہے ہیں۔ آپ سمجھاتے کچھ ہیں اور مسلم قوم کو سمجھتے کچھ ہیں۔ غیر ارادی طور پر آپ الرسالہ میں مسلم قوم کو جو مسائل در پیش ہیں ان کا اعتراف بھی کرتے رہے ہیں۔ آخر جو حقیقت ہوتی ہے وہ ظاہر ہو ہی جاتی ہے چاہے جتنا اس پر کوئی پردہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

اس کی تازہ مثال مارچ ۲۰۰۳ کا الرسالہ ہے۔ اس شمارہ کے صفحہ ۳۰ پر آپ نے انگریزی ماہنامہ مسلم انڈیا کے آخری ایڈیٹوریل کے ایک جملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس سے ان تمام لکھنے اور بولنے والوں کی تصدیق ہوتی ہے جو کہ آپ کے الفاظ میں منفی ذہن اور احتجاجی مزاج رکھتے ہیں۔ میں مسلم انڈیا کے جملے اور اس پر آپ کے تبصرہ کو یہاں نقل کرتا ہوں۔ “The Muslim India, thus became the record of the community's struggle for dignity, equality and justice, shirking fanaticism and engaging chauvinism, at the same time”. (P. 530)

" ان مطبوعہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم انڈیا کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عظمت اور مساوات اور انصاف ملے۔ اسی کے ساتھ وہ ہند و کلچر واد کے خطرے سے بچ سکیں۔ مگر جیسا کہ ہر آدمی جانتا ہے، یہ مقاصد کسی بھی درجہ میں پورے نہیں ہوئے۔ اس اعتبار سے میں سال پہلے مسلمانوں کی جو حالت تھی وہی آج بھی برقرار ہے۔ ایسی حالت میں مسلم انڈیا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page