Boss is always right
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۱
کے بانی اور ایڈیٹر کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس لئے اب ہم اس میدان سے ہٹ رہے ہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ہمارا مقصد پورا ہو چکا ہے اس لئے اب ہم اپنا آخری ایڈیٹوریل لکھ رہے ہیں۔ " آپ کے مذکورہ تبصرہ میں صاف طور پر مسلمانوں کی اصل حیثیت یعنی ان کو ہندوستان میں عظمت، مساوات اور انصاف کے نہ ملنے کا اعتراف ہے۔ ساتھ ہی وہ ہند و کٹر واد کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کو گزشتہ برسوں سے ان حالات کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو آپ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس ملک میں کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں اور ان کو اس ملک میں پورا پورا انصاف مل رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس ملک میں ان کو پورے مواقع ملے ہوئے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ کی کون سی بات حقیقت پر مبنی ہے۔ آپ کے اس مذکورہ تبصرہ کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دوسروں کی طرح آپ بھی منافقانہ روش پر چل رہے ہیں جس کا الزام آپ دوسروں کو دیتے رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ جو آپ کے دل میں ہے اس کو آپ چھپا رہے ہیں اور جو کہتے اور عوام کے سامنے لاتے ہیں وہ آپ کے اندر کی بات نہیں ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس خط کا مفصل اور تسلی بخش جواب دیں اور گستاخی معاف کریں۔ (مشتاق احمد ندوی، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی)
جواب
میرے اندازہ کے مطابق، آپ نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ الرسالہ کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، ورنہ آپ ایسا نہ لکھتے۔ میں مسئلہ کے وجود کا منکر نہیں ہوں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے شکایت اور احتجاج کا طریقہ غیر مفید ہے اور تجربہ سے عملاً غیر مفید ثابت ہوا ہے۔ سوال الرسالہ کی جادو بیانی کا تجربہ میں نے اخلاقی تعلیم کے دور میں کیا۔ الرسالہ کا سحر طلبہ وطالبات کو بے قابو کر دیتا تھا۔ ان میں فکر و کردار کی بلندی اور قوم وملت کے لئے کچھ کر گزرنے کا جوش مجھے حیران کر دیتا تھا۔ ان کی یہ حساسیت مجھے گہرے مطالعہ، بلند کردار اور وقف ہونے کے جذبے کو پروان