Al-Risala · May 2004 · page 35

Boss is always right

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۵

مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ایودھیا کے ایشو پر ہر آدمی نے بولنا شروع کر دیا۔ یہ بہت غلط تھا۔ ۹۹ آدمی جب چپ ہوتے ہیں تب ایک کو بولنے کا موقع ملتا ہے۔ ۶ نئی دہلی کے انگریزی ماہنامہ فورس (Force) کی نمائندہ غزالہ وہاب نے ۲۹ اگست ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا (91-120-2433268 :.Tel)۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر یونیفارم سول کوڈ سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ یونیفارم سول کوڈ کی بات محض ایک وہم ہے۔ کیوں کہ ایسا کبھی ہونے والا ہی نہیں۔ اگر کوئی یونیفارم سول کوڈ بنایا جائے اور اُس کو اختیار کرنا قانونی طور پر لازم قرار دیا جائے تو وہ دستور ہند میں دی ہوئی آزادی کے خلاف ہوگا۔ اس لیے وہ سپریم کورٹ میں رد ہو جائے گا۔ اور اگر وہ اختیاری ہو تو اُس کو بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔ کیوں کہ اختیاری نوعیت کا کامن سول کوڈ آج بھی موجود ہے اور یہ وہی ہے جس کو سول میریج ایکٹ کہا جاتا ہے۔

۷ تری ویندرم میں قائم شدہ شانتی گری آشرم کے زیرِاہتمام ۳۱؍اگست اگست ۲۰۰۳ کو نئی دہلی کے کیرلا ہاؤس میں ایک فنکشن ہوا۔ اس کی صدارت سابق راشٹرپتی مسٹر کے آر نارائنن نے کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی۔ یہ فنکشن امن اور روحانیت کے موضوع پر تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موضوع پر قرآن وحدیث کے حوالہ سے ایک تقریر کی۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں تھا۔

۸ دگیان پریشد اور ڈاکٹر کے۔ سی گپتا کی طرف سے میرٹھ میں ۶-۷ ستمبر ۲۰۰۳ کو ایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے تحت صدر اسلامی مرکز نے میرٹھ کا سفر کیا۔ وہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں اُن کے کئی پروگرام ہوئے ۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ ماہنامہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

۹ نئی دہلی کے ست گامتی کالج (Sat Gamati College) میں اس کی آرٹس اینڈ کلچرس سوسائٹی کے تحت ایک اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ۱۲ ستمبر ۲۰۰۳ کو کیا گیا۔ اس اجتماع میں صدر اسلامی مرکز

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page