Al-Risala · May 2004 · page 37

Always do your best, and ensure success.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷

میں انڈیا انٹرنیشنل سینٹر انیکسی) میں ایک سیمینار ہوا۔ اس میں دہلی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس سیمینار کا موضوع تھا، پرنسپس آف پیس (Principles of Peace)۔ اُس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی۔ اس ذریعہ اظہار خیال انگریزی تھا۔ مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ صدرِ اسلامی مرکز نے قرآن کی آیت (حم السجدہ ۳۴) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو کوئی تم سے بُرا سلوک کرے، تم اُس سے اچھا سلوک کرو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا دوست بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قرآنی آیت کے مطابق، ہر دشمن ہمارا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ حاضرین نے اس کو بہت پسند کیا اور کہا کہ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ قرآن میں ایسی آیت بھی موجود ہے۔ حاضرین میں زیادہ تر ہندو اور عیسائی اور سکھ حضرات تھے۔

ٹی ٹی این این (Todays News Networks Limited) کی ٹی وی ٹیم ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ کو مسٹر پرویز احمد کی قیادت میں اسلامی مرکز میں آئی۔ اس نے صدرِ اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دو مسئلوں سے تھا۔ حج کے لیے گورنمنٹ کی سبسڈی اور یکساں سول کوڈ کا مسئلہ۔ حج کے معاملہ میں بتایا گیا کہ تمام مسلم ملکوں میں حکومتوں کی طرف سے حج کے لیے سبسڈی دی جاتی ہے اور علماء نے کبھی اس کو غلط نہیں قرار دیا۔ یہی حکم ہندوستان میں گورنمنٹ کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی کا بھی ہے۔ ہندوستان کی گورنمنٹ کوئی غیر مسلم گورنمنٹ نہیں، وہ ایک نیشنل گورنمنٹ ہے۔ اس میں مسلمان بھی برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے اس معاملہ میں اس کا حکم بھی وہی ہے جو مسلم ملکوں کی حکومتوں کا ہے۔ یکساں سول کوڈ کے بارہ میں بتایا گیا کہ یہ ایک خیالی چیز ہے۔ وہ کوئی قابلِ عمل چیز نہیں۔ اور جو چیز عمل میں آنے والی ہی نہ ہو اس پر اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔

آچاریہ شری مہا پر جنا پروس ویوستھا کمیتی (سورت) اور جین وشودھیا لے (دہلی) کے اشتراک سے سورت میں ایک کانفرنس ہوئی جس کے خصوصی مہمان صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبد الکلام تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page