Al-Risala · May 2004 · page 38

Always do your best, and ensure success.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸

صدر اسلامی مرکز نے اُس کی دعوت پر اُس میں شرکت کی۔ اس کے بعد احمد آباد کی ایک تنظیم پراٹ کی دعوت پر انہوں نے احمد آباد کا سفر کیا۔ دونوں مقامات پر اُن کے مختلف پروگرام ہوئے۔ یہ سفر ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۳ کو شروع ہوا اور ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ ماہنامہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

نئی دہلی میں کناڈا کے ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر ۲۰ اکتوبر ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی اجتماع ہوا۔ یہ کناڈا کے ایک ڈیلی گیشن کی آمد پر ہوا تھا۔ اس ڈیلی گیشن میں کناڈا کے سینئر لیڈر شامل تھے۔ یہ لوگ اپنی ہندوستان آمد کے موقع پر اسلام اور مسلمان کے موضوع پر معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے صدر اسلامی مرکز کو مدعو کیا۔ یہ دو گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اُس میں پہلے موضوع پر ایک تقریر کی اور پھر ڈیلی گیشن کے افراد کے سوالات کا جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں اس وقت مسلمان ۷۵ مسلم ملکوں سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد کسی بھی دوسرے مسلم ملک سے زیادہ ہے۔ یہاں کے مسلمان ہر میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہاں اُن کو ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کے لیے کھلے مواقع حاصل ہیں۔ بعض ناخوش گوار واقعات ضرور یہاں ہوئے ہیں مگر اُن کی حیثیت استثناء کی ہے، نہ کہ عموم کی۔

۱۶ انندتا چکر برتی (Anindita Chakrabarti) دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں (044-24425693 :Tel)۔ وہ انڈیا کی مسلم دینی جماعتوں پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر ۱۲ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کے دوران بتایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ صرف جُوئِ طور پر دینی تحریکیں ہیں۔ ان میں سے کوئی ملت وار تحریک ہے، کوئی سیاست وار تحریک ، کوئی مسائل وار تحریک ہے اور کوئی مسجد وار تحریک۔ حقیقی معنوں میں کوئی بھی اسلام کے احیاء کی تحریک نہیں۔ اناڈوٹیلی ویژن کے رپورٹر مسٹر راجیورنجن سنگھ نے ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page