Al-Risala · May 2004 · page 39

Always do your best, and ensure success.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۹

ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق سماجی تعمیر میں عدالت کے کردار سے تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا ہے کہ دیوالی میں رات کو دس بجے کے بعد پٹاخہ نہ چھوڑا جائے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کے معاملات کی اصلاح قانون کے ذریعہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ سماج میں شعوری بیداری لائے بغیر سماج میں سدھار لایا نہیں جاسکتا۔

۱۸ نئی دہلی کے برٹش ہائی کمیشن میں ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندوستان کے دس مذہبوں کے ممتاز نمائندے شریک ہوئے۔ یہ میٹنگ برطانیہ کے پرنس چارلس کی درخواست پر ہوئی جو ان دنوں انڈیا آئے تھے۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام کس طرح پر امن تعمیر کا حامی ہے۔ اس تقریر کے بعد پرنس چارلس نے اُن سے سوال کیا کہ صوفی ازم کا اثر مسلم سماج پر کم کیوں ہے اور جہادی اسلام کا اثر زیادہ کیوں۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ بات صرف جزوی طور پر صحیح ہے۔ صوفی اسلام کا اثر مسلم سماج میں پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ البتہ حال میں بعض سیاسی اور قومی اسباب سے جہاد کے نام پر کچھ سرگرمیاں ہورہی ہیں۔ مگر یہ اسلامی جہاد نہیں ہے۔ یہ صرف قومی لڑائی ہے۔

۱۹ یروشلم میں قائم شدہ الیجا اسکول (The Elijah School for the Study of Wisdom کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کو ایک دعوت in World Religions UNESCO) نامہ ملا۔ اس کے ڈائرکٹر الون گوشین گاٹ سین (Alon Goshen-Gottstein) ہیں۔ اس میٹنگ کو الیجا اسکول اور فاؤنڈیشن فار تھری کلچرس آف دی میڈیٹرینین (Foundation for Three Cultures of the Mediterranean) نے آرگنائز کیا تھا۔ اندلوسیا کی گورنمنٹ کے انویٹیشن سے اسپین کے شہر اشبیلیہ (Secille) میں یہ کانفرنس ۱۴-۱۷ دسمبر ۲۰۰۳ کو منعقد ہوئی۔ یہ عالمی مذہبی شخصیتوں کا اجتماع

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page