Al-Risala · May 2004 · page 42

Always do your best, and ensure success.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۲

میں بتایا گیا کہ جہادِ اسلام میں صرف دفاع کے لیے ہے اور اس کا حق صرف باقاعدہ حکومت کو حاصل ہے۔ موجودہ زمانہ میں جہاد کے نام سے جو غیر حکومتی سرگرمیاں جاری ہیں ان میں سے کوئی بھی شرعی جہاد نہیں۔

۲۷ واردھا میں قائم شدہ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز کے تحت مختلف مذاہب کا ایک سیمینار ہوا۔ یہ پانچ دن (۲۳۔ دن(۲۳۔ ۲۷نومبر ۲۰۰۳) تک جاری رہا۔ اس میں ہر مذہب کے لیے ایک دن خاص کیا گیا تھا۔ ۲۶ دسمبر کا دن اسلام کے لیے مخصوص تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور ۲۶ دسمبر کے اس پروگرام میں تفصیل کے ساتھ اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا یہ پروگرام ہوا۔ اس کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

۲۸ اہنسائی وی (نئی دہلی) نے ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اہنسا کے نظریہ سے تھا۔ جوابات میں بتایا گیا کہ اہنسایا عدم تشدد فطرت کا ایک اصول ہے۔ اس دنیا میں پر امن طریق کار کے ذریعہ کام بنتے ہیں اور متشددانہ طریق کار کے ذریعہ کام بگڑ جاتے ہیں۔ اسلام میں تشدد کا استعمال صرف ناگزیر دفاع کے لیے جائز ہے۔ دفاع کے سوا کسی اور مقصد کے لیے تشدد ہرگز جائز نہیں۔ اسلام میں اصل اہمیت امن کی ہے۔ ۲۹ اہنسائی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو مرکز میں آئی۔ اُس نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اہنسا (عدم تشدد) تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کی تمام تعلیمات عدم تشدد کے اصول پر مبنی ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت تشدد کو پسند نہیں کرتی۔ اس لیے اسلام میں بھی تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جارحیت کی صورت میں ناگزیر ضرورت کے طور پر دفاعی جنگ جائز ہے۔ جب پر امن طریق کار کا اصول قابلِ عمل ہو تو ہر گز تشدد کا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ اسلام میں گوریلا وار، پراکسی وار، اعلان کے بغیر وار اور جارحانہ وار یہ سب سراسر ناجائز ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page