Al-Risala · May 2004 · page 43

Always do your best, and ensure success.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۳

ایک خط

برادر محترم عبدالسلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ قرآن فہمی کے اصول و شرائط کے بارے میں ہزاروں کتابیں اور مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ان میں بہت سے اصولوں کو قرآن فہمی کی لازمی شرط بتایا گیا ہے۔ مگر مطبوعہ ریکارڈ کے مطابق، ایک اہم ترین شرط اس میں شامل نہیں ہوسکی ہے۔ اور وہ خود قرآن کے بیان کے مطابق، تقویٰ ہے۔

قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت موجود ہے کہ قرآن اہل تقویٰ کے لیے ہدایت ہے (ھدی للمتقین)۔ اس کے بعد دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، اللہ تم کو علم کی توفیق دے گا (اتقوالله و یعلمکم الله)۔

میرے مطالعہ کے مطابق، تقویٰ کی دو قسمیں ہیں۔ فطری تقویٰ اور شرعی تقویٰ۔ شرعی تقویٰ کا تعلق اہل ایمان سے ہے اور فطری تقویٰ کا تعلق اہل ایمان اور غیر اہل ایمان دونوں سے ہے۔ شرعی تقویٰ وہ ہے جو خدا کی شعوری معرفت کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اور فطری تقویٰ سے مراد وہ چیز ہے جس کو عام طور پر سنجیدگی (Sincerity) کہا جاتا ہے۔ سنجیدگی بلاشبہ کسی انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ سنجیدگی سے دیانت دارانہ فکر (intellectual honesty) پیدا ہوتی ہے۔ سنجیدہ انسان اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ آبجیکٹیو (objective) طور پر دیکھ سکے۔ سنجیدہ انسان اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ حقیقت سامنے آنے کے بعد وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ سنجیدہ انسان کے اندر تواضع (modesty) کامل طور پر موجود رہتی ہے۔ وہ کبر کی نفسیات سے پوری طرح خالی ہوتا ہے۔ سنجیدہ انسان کے اندر یہ جرأت ہوتی ہے کہ وہ کہہ سکے کہ میں غلطی پر تھا۔ حق شناسی کی لازمی شرط سنجیدگی ہے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں سنجیدہ ہو وہ حق کو پانے میں کبھی ناکام نہیں رہتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page