Al-Risala · May 2004 · page 44

Always do your best, and ensure success.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴

اس سلسلہ میں مجھے بار بار ذاتی تجربات پیش آئے ہیں۔ ایک دلچسپ تجربہ وہ ہے جو 22 فروری ۲۰۰۴ کو دہلی میں ہوا۔ اس تاریخ کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک سیمینار تھا۔ اس میں مجھے تقریر کے لیے بلایا گیا تھا۔ وہاں دوسرے مقررین کے ساتھ مسٹر بلراج مدھوک بھی موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دو قومی نظریہ (two nation theory) ڈاکٹر محمد اقبال اور مسٹر محمد علی جناح کے ذہن کی پیداوار ہے۔ اس نظریہ کا کوئی تعلق قرآن یا اسلام سے نہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے اور خود پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے جن معاصرین کو خطاب کیا، وہ بت پرست (idol-worshippers) تھے۔ دونوں کا مذہب اگر چہ الگ الگ تھا مگر دونوں کی قومیت ایک مانی گئی کیوں کہ دونوں کا وطن ایک تھا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا قوم (اے میری قوم) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدائی دین کے مطابق قومیت کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا بلکہ وطن سے ہوتا ہے۔ یعنی جن لوگوں کا وطن (homeland) ایک ہو وہ سب ایک قوم شمار کیے جائیں گے، خواہ ان کا مذہب الگ الگ ہو۔ میرے بعد مسٹر بلراج مدھوک کی تقریر تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دو قومی نظریہ خود قرآن میں موجود ہے۔ جن لوگوں نے یہ نظریہ بنایا ہے انہوں نے قرآن ہی سے اس کو بنایا ہے۔ قرآن انسانوں کے درمیان تفریق سکھاتا ہے۔ مولانا صاحب قرآن کے اس چہرہ پر وائٹ واش (whitewash) کر رہے ہیں۔ مسٹر بلراج مدھوک نے یہ بات کہی مگر انہوں نے اپنی تائید میں قرآن کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ مسٹر بلراج مدھوک کی تقریر آخری تقریر تھی جس کے بعد اسٹیج سے کسی اور تقریر کا موقع نہ تھا۔

سیمینار کے بعد حاضرین میں سے کچھ نو جوانوں نے مسٹر بلراج مدھوک سے ملنا چاہا مگر وہ نہیں ملے کیوں کہ پروگرام کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔ بعد کو ان نوجوانوں نے سیمینار کے منتظمین سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا اور مسٹر بلراج مدھوک کا پتہ اور ٹیلی فون نمبر معلوم کرنا چاہا لیکن منتظمین نے اس معاملہ میں کچھ بتانے سے معذوری ظاہر کی۔ آخر کار ایک اور ذریعہ سے معلوم ہوا کہ مسٹر بلراج

‹ Previous page Next page › Contents of May 2004 All issues

Printed page