Always do your best, and ensure success.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۶
ایک خط برادرم مسٹر زبیراحمد اکبانی السلام علیکم ورحمۃ اللہ ٹیلی فون کے ذریعہ معلوم ہوا کہ آپ کے چھوٹے بچہ کا انتقال ہوگیا۔ یہ آپ کے لیے یقینا ایک سخت حادثہ ہے۔ مجھے خود بھی اس قسم کا ایک تجربہ تقریبا ساٹھ سال پہلے پیش آچکا ہے۔ اس لیے میں اس معاملہ میں آپ کے احساس کو سمجھ سکتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صبر کی توفیق دے اور آپ کے لیے حُسن تلافی کی صورت پیدا فرمائے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب کسی مومن کا چھوٹا بچہ وفات پا جائے تو وہ اُس کے لیے آخرت میں فرط اور ذخربنے گا۔ فرط کے معنیٰ عربی زبان میں مقدم کے ہوتے ہیں ، یعنی پیشگی بھیجا جانے والا۔ مثلاً عربی زبان میں کہا جاتا ہے فرط الیہ رسولا ( کسی کو قاصد بنا کر پیشگی طور پر آگے بھیجنا) اور ذخر کے معنیٰ ذخیرہ کے ہوتے ہیں۔ یعنی کسی چیز کو وقتِ ضرورت کے لیے محفوظ رکھنا۔ مثلاً کہا جاتا ہے: اعمال المؤمنین ذخائر عند اللہ (مومنین کے اعمال اللہ کے یہاں ذخیرہ ہیں)۔
چھوٹے بچہ کی وفات کے بارہ میں یہ حدیث بے حد اہم ہے۔ اس حدیث کے مطابق ، وفات پانے والا بچہ اپنے والدین کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے جو گویا پیشگی طور پر آخرت کی دنیا میں بھیجا گیا ہے تا کہ وہ ضرورت کے وقت وہاں والدین کے کام آئے، وہ خدا کے یہاں اپنے والدین کے لیے ایک معصوم سفارشی بن جائے۔
مگر یہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب کسی کا کوئی چھوٹا بچہ وفات پا جائے تو وہ اپنے آپ عالم آخرت میں والدین کے لیے فرط اور ذخربن جائے گا۔ یہ خوش قسمتی صرف اُن والدین کے ساتھ پیش آئے گی جو اسی اسپرٹ کے ساتھ ہونے والے واقعہ کا استقبال کریں۔ ہونے والا واقعہ اُن کے دل و دماغ میں اسی حیثیت سے ڈھل جائے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ