وار دھا کا سفر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۵۵
خود اپنی معاشی حالت سے ہے۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں مسلمانوں کی خود اپنی معاشی حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج اُن کی اپنی معاشی حالت بہت زیادہ بہتر ہے۔ حتیٰ کہ خود میرے ناقدین اگر دیکھیں تو خود ان کے اپنے خاندان کی معاشی حالت جو ۱۹۴۷ء میں تھی آج وہ اُس سے بہت زیادہ بہتر دکھائی دے گی۔
اصل یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ زمانی تبدیلی کا معاملہ ہے۔ صنعتی دور کے بعد آج ہم معاشی انفجار (economic explosion) کی حالت میں جی رہے ہیں۔ ایسے زمانہ میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی گروہ ترقی سے محروم رہے۔ مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے تباہ حال بتانا یہ ایک خلاف زمانہ بیان (anachronic statement) ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ ہر طرف دھواں دھار برسات ہو رہی ہے لیکن مسلمانوں کے کھیت سوکھے پڑے ہیں۔ ہندو کے مقابلہ میں مسلمانوں کی ترقی کا تعلق ذاتی لیاقت سے ہے۔ مگر مذکورہ قسم کی ترقی خود زمانی اسباب کے تحت اُنہیں اپنے آپ ملتی رہے گی۔
مجھے حال میں ایک تنظیم کی طرف سے دعوت نامہ ملا تھا۔ جس نے ۱۳ دسمبر ۲۰۰۳ کودہلی میں ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس کا مقصد دعوت نامہ میں یہ بتایا گیا تھا کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (OIC) میں ۵۷ ملک ہیں۔ اس کے علاوہ تین اسٹیٹ ہیں جن کو اس تنظیم میں آبزرو رکی حیثیت دی گئی ہے۔ مگر ہندوستان اس تنظیم کا ممبر نہیں ۔ جب کہ ہندوستان میں مسلمان انڈونیشیا کے بعد سب سے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستان کو اس تنظیم میں ممبر یا آبزرو رکی حیثیت حاصل نہ ہوسکی۔ دعوت نامہ میں بتایا گیا تھا کہ یہ انکار بنیادی طور پر پاکستان کی مخالفانہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ This denial is primarily engineered by Pakistan مذکورہ تنظیم کے ایک ذمہ دار جو ۱۱ دسمبر کو میرے پاس دعوت نامہ لے کر آئے تھے ان سے میں نے کہا کہ اگرچہ میں آپ کی کانفرنس میں شریک نہ ہوسکوں گا لیکن اس معاملہ میں میری جو رائے ہے وہ آپ کو بتا رہا ہوں ۔ پھر میں نے کہا کہ او آئی سی میں ہندوستان کی عدم شمولیت کا سبب اصلاً پاکستان کی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues