Al-Risala · July 2004 · page 56

وار دھا کا سفر

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۵۶

دشمنی نہیں ہے بلکہ خود ہندوستان کے مسلم لیڈروں کی نا عاقبت اندیشانہ دوستی ہے۔ وہ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے دنیا بھر میں یہ خبر پھیلا رہے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان خود اپنے ملک میں منفعل آوازوں (Passive voices) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اس ملک میں خود اہل ملک کی طرف سے بے قیمت بنا دئے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں او آئی سی ہندوستان کو مسلمان کے حوالے سے کیوں اپنا ممبر بنائے گا۔

ہندوستان کے مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کے حوالے سے ہندوستان او آئی سی کا ایک ممبر بنے تو مسلمانوں کو سب سے پہلے خود اپنے ذہن میں ہندوستان کو ایک باعزت مقام دینا ہوگا۔ انھیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہندوستان ان کا اپنا ملک ہے۔ وہ یہاں کے باعزت شہری ہیں۔ ملک کے نظام میں ان کو برابر کا درجہ حاصل ہے۔ وہ ملک کے اسی طرح نمائندہ ہیں جس طرح بقیہ لوگ اس ملک کے نمائندہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں سب سے پہلے مسلمانوں کے حوالہ سے ہندوستان کی تصویر درست کرنی ہوگی۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ مسلمانوں کے حوالہ سے ہندوستان او آئی سی کا ممبر بننے کا اہل دکھائی دے۔

دہلی اور سیوا گرام کے درمیان ۱۱۱ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ سفر جی ٹی ایکسپریس کے ذریعہ طے ہوا۔ ۲۲ نومبر ۲۰۰۳ کی شام کو ۷ بجے دہلی سے روانگی ہوئی اور اگلے دن ۲۳ نومبر کی دوپہر کو ڈیڑھ بجے ہماری گاڑی سیوا گرام پہنچی۔ گرینڈ ٹرنک ایکسپریس کا نظام برٹش دور میں قائم ہوا تھا۔ یہ ایک علامت ہے کہ انگریز ہندوستان میں کس طرح جدید دور کی چیزیں لے آئے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر انگریز ہندوستان میں نہ آتے تو ہندوستان ابھی کم از کم ۱۰۰ سال پیچھے ہوتا۔ انگریزوں کا یہاں آنا ایک اعتبار سے بیرونی قوم کا یہاں آنا تھا۔ مگر دوسرے اعتبار سے وہ تاریخ کے نئے دور کا یہاں آنا تھا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے وہ متعصبانہ سوچ ہے۔ کسی فرد یا قوم کے لئے اگر آپ کے اندر متعصبانہ سوچ آجائے تو آپ اس کے بارے میں صحیح رائے نہیں قائم کر سکتے۔ یہی معاملہ انگریزوں یا نو آبادیاتی طاقتوں کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page